تصدیق براھین احمدیہ — Page 134
تصدیق براہین احمدیہ میں کیا قباحت ہوئی ؟ ۱۳۴ وجہ ثانیہ۔قرآن کریم میں صاف لکھا ہے۔آگ اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔اور یہ بھی قرآن میں لکھا ہے کہ مخلوق کی عبادت جائز نہیں۔غور کرو۔قُلْنَايُنَارُ كُوْنِى بَرْدَا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء: ۷۰ ) فَرَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُوْرُونَ أَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ نَحْنُ جَعَلْنَهَا تَذْكِرَةً وَ مَتَاعًا لِلْمُقْوِيْنَ (الواقعة: ۷۲ تا ۷۴) اور مخلوق کی نسبت حکم ہے۔وَمِنْ أَيْتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (حمَ السَّجِدَة : ۳۸) وجہ ثالثہ سورہ قصص کی اس آیت سے جس میں یہ قصہ مندرج ہے صاف معلوم ہوتا کہ یہ آواز جس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سنا تھا آگ سے نہیں آئی بلکہ ایک درخت کی طرف سے وہ آواز سنائی دی۔چنانچہ اس میں فرمایا ہے۔فَلَمَّا أَتَهَا نُودِيَ مِنْ شَاطِيُّ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبَقَعَةِ الْمُبْرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ يمُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ (القصص: ۳۱) وجہ رابعہ۔اگر ہم مان لیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگ سے آواز سنی مگر یہ تو پھر بھی ا ہم نے کہا اے آگ ! تو ابراہیم پر سر داور سلامت ہو جا۔سے اس آگ کو جسے جلاتے ہو سمجھتے ہو کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔سے اور اس کے نشانوں سے ہے رات دن، سورج اور چاند۔مت سجدہ کر وسورج اور چاند کو بلکہ اللہ کوسجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔۴۔پس جب اس کے پاس آیا برکت والے میدان کے کنارے سے مبارک زمین میں درخت کی طرف سے پکارا گیا کہ اے موسیٰ ! یقینا میں ہوں اللہ عالموں کا پروردگار۔