تصدیق براھین احمدیہ — Page 133
تصدیق براہین احمدیہ ۱۳۳ سے منزہ ومبر ا ثابت کرتی ہے۔آگ بیچاری تو ایسی الہی مخلوق ہے کہ پانی سے معدوم ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت قرآن میں ہے سُبْحَنَ اللهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (النمل: ٩) جناب موسیٰ علیہ السلام نے آگ سے باتیں نہیں کیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا موسیٰ علیہ السلام نے صرف اللہ تعالیٰ کی آواز سنی محیط الکل اللہ تعالیٰ نے ہرگز آگ میں حلول نہیں فرمایا مکذب کا یہ کہنا۔موسیٰ علیہ السلام آگ کو فرماتے تھے اے آگ فرعون کو جلا دے۔دریائے نیل کو سکھا دے اے اگنی دیوتا میری قربانی قبول کر۔اے آگ مرنے کے بعد مجھے خراب نہ کر وغیرہ “ یہ سب مکذب کا بالکل افترا اور قرآن کے بالکل خلاف ہے اور مکذب کا کذب و بہتان وجوہات ذیل سے ظاہر ہے۔وجہ اولی کہ اُسی جگہ خود جناب موسیٰ علیہ السلام ہی کے قصہ میں آیا ہے۔إذْ رَا نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امُكُثُوا إِنَّ أَنَسْتُ نَارًا لَعَلى أُتِيْكُمْ مِنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدى اور اسی قصہ میں دوسری جگہ فرمایا ہے ان انست نَارً ا لَعَلَى اتِيْكُمْ مِنْهَا بِنَبَرٍ اَوْ جَدُّوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ (القصص:۳۰) آیات کا منشاء صاف ظاہر ہے اصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصر جاتے راستہ میں رات کے وقت آگ دکھائی دی اور آگ کے دیکھنے کے بعد ان کو وہ خواہش پیدا ہوئی جو ہمیشہ سمجھ دار اور عقلمند مسافروں کو پیدا ہوا کرتی ہے۔راستہ میں آگ جلانا، پہاڑی ملکوں کا عام دستور ا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس سفر میں رات کا وقت ، سردی کا موسم پیش آیا اس پر راستہ بھول گئے۔دور سے آگ کو دیکھا اسے دیکھ کر ساتھ والوں کو فرمایا۔تم لوگ ٹھہرو، میں تمہارے لئے آگ سلگالا تا ہوں تا کہ تم اسے سردی میں تا ہو۔اور وہاں جا کر کسی سے راستہ کا پتہ بھی لوں گا۔بتاؤ اس لے میں نے آگ دیکھی ہے تو کہ میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاؤں یا آگ کی کوئی چنگاری لاؤں تو کہ تم تا پو۔