تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 122

تصدیق براہین احمدیہ سرب شکتی مان ہے۔انتھی۔۱۲۲ ناظرین غور فرمائیں۔ہاں خوب غور فرمائیں۔اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اس کی پاک کلام کی بے ادبی اور اس کے مقابلہ میں ہٹ اور ضد کا کیا برا نتیجہ ہوتا ہے۔اور کس طرح راستبازی کا دشمن اندکاری میں تباہ ہوتا ہے۔سوچو تو یہ کیا دلیل ثبوت ہستی صانع عالم کی ہے؟ اس منتر سے حسب ترجمہ یا تفسیر با بیان مکذب براہین کے طرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نجات کے واسطے سرب بیا پک اور جاننے لوگ پر ماتما ہے۔اس کے گیان سے انند ہوتا ہے جیسے سورج سب جگہ ایسے ہی برہم سب جگہ ہے۔کوئی بتا دے کہ اس میں ثبوت صانع کی کون سی دلیل ہے یہ تو ایک نصیحت ہے۔جو خدا کے ماننے والوں کے واسطے اس کی محبت بڑھانے میں مفید ہوسکتی ہے۔اس بیان کو ثبوت صانع میں کوئی دخل نہیں۔مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب مکذب نے شیطان کے حق میں اخوت و دوستی کے حقوق قدیم کی رعایت سے یہ موافق فیصلہ دیا۔باغی اور دشمن حق کی اس طرف داری کے عوض میں عادل اور منصف خدا نے حق فہمی اور حق نیوشی سے مکذب کے دیدہ و گوش کور و کر کر دئے۔انصاف کا مقتضا بھی یہی ہے کہ جس نعمت کی انسان قدر نہ کرے وہ اس سے ضرور چھین لی جاوے۔شیطان کا غلط خیال اور اس کی واہی دلیل باری تعالیٰ کے صریح حکم اور عقل کے مخالف ہے۔کیونکہ اُسے باری تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جو اس ملک کے خلیفہ تھے سجدہ یا آگیا پالن اور فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔اس عمدہ حکم کی جو تمدن کا ایک بڑا بھاری مسئلہ ہے۔شیطان نے مخالفت کی اور یہ بیہودہ عذر تر اشا۔انا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنِ (الاعراف: ۱۳) حالانکہ حاکم کا حکم ماننا اصل محکومیت ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرمانبرداری اسی میں تھی کہ آدم کی آگیا کا پالن کیا جاتا۔مگر ابلیس باغی نے بغاوت کی اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مجبور کر کے