تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 121 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 121

تصدیق براہین احمدیہ ۱۲۱ بیان کرتا ہوں۔پہلے۔(۱) نجات یا مکتی کے واسطے اصل مقصود یا پرم ات کرسٹ یا سب کے جاننے یوگ سرب بیا پک پر تما ہے۔سب کو پوری پر تین سے اس کے حصول یا پراپتی کے لئے کوشش اور تین کرنا چاہیئے۔اس کے گیان سے پرمانند میں رہ سکتے ہیں۔ست و دیا ہی سے اس کا گیان ہوتا ہے اور گیان ہی سے پر ماتما کا جاننا ہے جس طرح اکاش میں نیتر اور سورج کی بیا پتی اور پر کاش آس من تات بیا پت ہے۔ایسے ہی برہم سب جگہ پر پتی پورن ایک رس بیا پک ہے اس کی پرابتی سے جیو سب دکھوں سے چھوٹتا ہے اور کسی طرح نہیں“۔پھر مکذب نے اس بڑی دلیل کی اور بھی زیادہ تفصیل کی ہے۔(۱) ایشر ہی کے گیان سے مکتی اور اس سے اعلیٰ سوکھ حقیقی انند یا زیادہ مدارج ترقی انسان کے واسطے کوئی نہیں ہے۔(۲) جانی سوکھ اور شہوی یا ا گیانی لذائذ کا اس میں نام ونشان بھی ندارد ہے۔(۳) ایشر محسوس نہیں اور نہ محدود ہے۔اس کا کوئی خاص مکان یا تخت نہیں اور نہ اس کی حاضری کے واسطے کسی عرض بیگی کی ضرورت ہے۔بلکہ وہ سرب بیا پک ہے۔(۴) و دیا گیان کا ذریعہ اور گیان ملکتی کا۔پس مکتی کا نتیجہ پر ماتما کی پراپتی ہے۔اس سوکھم بات کے جاننے کے واسطے ایک ایسی ہی سوکھم دلیل کی ضرورت تھی جو ایشر کی طرف سے ہدایت دی گئی۔پر میشر آگیا دیتا ہے کہ جس طرح سے آکاش میں نیتر کی بیا پتی ہے اور محسوس نہیں ہوتی۔بصارت اپنا کام چلا رہی ہے اور دکھائی نہیں دیتی جس طرح سوریہ کا پر کاش اکاس میں اس میں تات بیا پت ہے اور زیادہ سوکھم ہونے سے اکاس استھ پدارتھ اس کی ماہیت کو نہیں جانتے ویسے ہی ایک مہان شکتی مان پر ماتما انتظام عالم کا کر رہا ہے۔مگر سورج کی طرح جڑھ نہیں اور نہ ایک ویشی ہے چونکہ فانی نہیں اس واسطے محسوس بھی نہیں مگر سرب بیا پک چین اور