تصدیق براھین احمدیہ — Page 120
تصدیق براہین احمد به ۱۲۰ قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدلُّكُمْ أَجْمَعِينَ (الانعام : ۱۵۰،۱۴۹) خلاصہ مطلب۔اگر ذات بابرکات باری تعالیٰ کا ارادہ ہو کہ خواہ مخواہ انسان کو ایک طرف کھینچے تو ایسی مقدس ذات سے بعید ہے کہ انسان کو گمراہی و شرک کی طرف لے جاوے بلکہ کیوں نہ سب کو ہدایت پر لا کر فرشتے ہی بناڈالے۔مگر جب اُس نے انسان کو علی العموم ہدایت پر مجبول نہیں فرمایا اسی سے یہ بھی قیاس کر لینا چاہیے کہ اس نے انسان کو گمراہی پر بطریق اولی مجبول نہیں کیا یا مجبور نہیں فرمایا۔اس طریق کا نام استدلال بالاولیٰ ہے۔اور یہی استدلال قرآن کریم کا خاص طرز ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک استطاعت بخشی ہے اور ایک قدرت عنایت فرمائی ہے۔اسی قوت پر انسان کو مکلف بنایا ہے۔اور اس پر جزا اور سزا کو مرتب کیا ہے۔حضرت مخدوم مکرم جناب مرزا صاحب نے براہین میں لکھا ہے۔فرقان مجید ہر ایک اصولی اعتقاد کو جو مدار نجات ہے محققانہ طور سے ثابت کرتا ہے۔(۱) جیسے وجود صانع عالم کا ثبوت (۲) توحید کا ثبوت (۳) ضرورت الهام احقاق حق اور ابطال باطل۔یہ امور فرقان کے من جانب اللہ ہونے پر بڑی دلیل ہیں۔اس کے جواب میں مکذب صاحب آریہ کے چوتھے نیم کو یاد دلاتے ہیں اور وہ یہ ہے۔”سچ کے اختیار کرنے اور جھوٹ کے چھوڑنے میں سر د تھا ادت رہنا چاہئے۔پھر کچھ اور داد خوش فہمی دی ہے اور کہا ہے۔جس مذہب میں شک کرنا کفر ہے ایسے ایمان بالجبر یا ایمان بالمکر کا خود اس کی زبان سے ہی بدیہی بطلان ہے۔پھر قرآن کریم پر حملہ کرنے کی وجہ میں کہا ہے۔” جب تک سچائی کے مقابلہ جھوٹ کو لا کر کامل شکست نہ دی جائے تب تک راستی کے جو ہر انکشاف نہیں پاتے اور نہ تسلی کامل پہنچاتے ہیں“۔پھر مکذب نے دیانند کی تعریف اور ان کے چمنستان کی خوبی بیان کر کے امور مرقومہ بالا میں موازنہ قرآن وید پر قلم اٹھایا ہے۔پھر مکذب نے وجود صانع پر سات دلائل لکھے ہیں۔جن کو میں ایک ایک کر کے