تصدیق براھین احمدیہ — Page 110
تصدیق براہین احمدیہ 11۔یہ حکم اللہ تعالیٰ کے فضل کا نشان تھا۔حضرت آدم غالبا ہند بلکہ سراندیب میں چلے آئے جیسے جابر، ابن عمر سید نا علی اور جماعت صحابہ اور تابعین اور مَنْ بَعْدَهُمُ سے مروی ہے۔کیونکہ جس مکان پر کسی سے غلطی ہوتی ہے وہ منحوس جگہ اس قابل نہیں ہوتی کہ محتاط لوگ وہاں رہیں۔علاوہ بریں ایسے مکان سے ہجرت کرنا آئندہ کے واسطے ہشیار اور خبر دار بنا دیتا ہے۔ہاں حسب اپنشد ہائے بید ملائکہ یعنی دیوتا ملزم ہو سکتے ہیں کیونکہ سر ( یعنی فرشتے) با اسر کہ شیاطین باشند برائے جنگ کردن با ہمد گر جمع میشوند (اپنیشد چہاندوک ادیہائے اوّل) اللہ تعالیٰ نے ملائکہ دیوتا اور سروں کو آدم کے خلیفہ بنانے پر جب یہ فرمایا۔اتى أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔(البقرة: ٣١) اس دعوے کی نہایت لطیف دلیل بتائی۔دعوئی تو یہ فرمایا کہ بے ریب میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور اس دعوئی کا ثبوت یوں دیا۔وَعَلَمَ ادَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَهَا (البقرة: ۳۲) آدم کو چیزوں کے نام سکھائے اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کو دی اتنا تو ثابت ہوا کہ جو چیز آپ کو سکھائی گئی وہ فرشتے نہیں جانتے تھے۔اگر وہ جانتے تو اس چیز کے بنانے سے عاجز آکر یہ نہ کہتے۔شبختك لا علمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا (البقرة: ۳۳) آدم کو ایسی بات تعلیم کر دینی جس کا علم فرشتوں کو نہ ہو۔ضرور اس کا مثبت ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ کچھ جانتا ہے جسے فرشتے نہیں جانتے۔اگر فرشتے جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اگر آدم کو پڑھا دیا تھا گو ہم نے مانا کہ علیحدہ پڑھایا تھا۔تو واجب تھا کہ فرشتے بدوں اس کے کہ خدا سے پڑھتے بتلا دیتے۔اور اگر نہ بتلا سکے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمودہ ا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔تو پاک ہے ہمیں کوئی علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔