تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 109 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 109

تصدیق براہین احمدیہ 1+9 گزرا تب باری تعالیٰ نے ملائکہ کو فرمایا۔إلى أعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (البقرة: (۳۱) اللہ تعالیٰ علیم وخبیر کی غیب دانی پر غور کرو۔کیسی غیب دانی ہے اور وہ پاک ذات اپنے کے ساتھ کیسا محیط الکل ہے۔کسی تاریخ سے قرآن کی کسی آیت سے معلوم نہیں ہوتا کہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے کسی قسم کا فساد فی الارض باسفك دماء ہوا ہو۔ملائکہ کا اعتراض حضرت آدم پر تھا۔اور اعتراض بھی یہ کہ فساد فی الارض اور سفك دماءاس سے سرزد ہوگا۔مگر حضرت آدم ان عیوب سے پاک اور بری نکلے۔اگر حضرت آدم کی اولاد میں سے کوئی شخص ان کی طرز پر نہ چلا تو اس کے جرم سے حضرت قصور وار نہیں ہو سکتے اولاد کے گناہ سے باپ کو بدنام کرنا اور بیٹے کے قصور پر باپ کو ملامت کے قابل بنانا بے انصافی ہے۔باپ کی کرتوت سے بیٹا بدنام ہو تو ہومگر بالعکس بالکل غلط ہے۔ہاں حضرت آدم شیطان کی ناراستی اور قسم پر دھوکہ کھا جاتے تو ممکن تھا۔کیونکہ نیکوں کے نیک گمان ہوتے ہیں۔نیک آدمی فریبیوں کی باتوں پر اپنے نیک گمان کے سبب غلطی کھا سکتے ہیں۔شیطان نے تو حضرت آدم سے قسم کھائی تھی۔جیسے آیت ذیل سے ظاہر ہے۔وَقَاسَمَهُما إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّصِحِينَ فَدَلْهُمَا بِغُرُورٍ (الاعراف: ۲۳:۲۲) مگر حضرت آدم نے شیطان کے کہنے پر عمل نہیں کیا اور نہ شیطان کے دھوکے میں آئے ہاں جب آدم درخت ممنوع کی ممانعت بھول گئے۔جیسے عنقریب آتا ہے اور اس درخت کو استعمال کر چکے تو اس نسیان اور عدم حزم اور عدم احتیاط کے باعث اس ملک کے قیام سے روکے گئے جہاں مقیم تھے۔اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا (البقرة : ٣٩) لے ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں پھر انہیں دھوکے کی راہ دکھائی۔ے یہاں سے سب کے سب نکل جاؤ۔