تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 104 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 104

تصدیق براہین احمدیہ ۱۰۴ قومی اور ملکی روایت اور یہود اور عیسائیوں کے قرب سے یہ قصہ معلوم تھا اور غالب عمرانات کے لوگ آدم علیہ السلام کے اس دشمن کی بدحالت سے واقف تھے اور ظاہر ہے کہ تمثیل سے بہتر اور نتائج کے دکھانے سے زیادہ کوئی عمدہ ذریعہ روحانی اور اخلاقی تعلیم کے لئے نہیں ہوسکتا۔باری تعالیٰ نے ایک خاص ملک اور ایک خاص زمین میں آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا چاہا اور قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ آدم کو خلیفہ اور امام اور دینی دنیوی بادشاہ بناوے اس ملک کے دیوتا اور سروں * اور ملائکہ کو الہاماً آگاہ فرمایا کہ میں اس زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔غور کرو اس سے پہلی آیت میں جو معترض نے آدم کے قصہ میں لکھی ہے۔وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة: ٣١) الارض کا الف اور لام اگر چہ عموم اور استغراق کے معنے بھی دیتا ہے۔مگر خصوصیت کے معنے بھی دیتا ہے۔ہر دو معنے اپنے اپنے موقع پر لئے جاتے ہیں۔یہاں آدم علیہ السلام کے ایک جگہ سے نکالے جانے اور دوسری جگہ چلا جانے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جہاں آدم علیہ السلام خلیفہ * نوٹ۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب اشرار کی فتنہ پرداز حرکات حد سے بڑھ گئیں۔اور اخیار کو امن کی جگہ ملنی ان کے ہاتھوں دشوار ہوگئی۔باری تعالیٰ کی قاہر تقدیر نے ان اخیار میں سے جو انتظام ملک رانی اور سیاست مدن میں اقران و امثال کی نسبت خاص امتیاز رکھتا تھا اسے چن لیا۔اس نے اپنی تدابیر کی خوبی سے انہی نیکوکاروں کو مجموعی اور قوی ہیئت میں لا کر دشمنان حق کا استیصال کیا۔بنی اسرائیل کی برگزیدہ مگر اس وقت شکستہ حال جماعت کو جو سفاک دشمنوں کے نرغے میں گھرے ہوئے تھے حضرت یسعیا نبی بشارت دیتے ہیں کہ بہت جلد ایک جوان عورت ایک بچہ جننے والی ہے جو درماندہ قوم کا نجات دینے والا ہوگا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ارض شام کے صلحا اور عارفین کو (بحسب اختلاف السنہ انہیں اُسر کہو۔دیوتا کہو۔ملائکہ سے تعبیر کرو) الہاما خوشخبری دی کہ میں ایک ایسا آدمی مبعوث کیا چاہتا ہوں جو علاوہ صلاح و تقویٰ کی صفت کے امور دنیوی کی باگ ہاتھ میں لینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔وہ سادہ اور پاک لوگ جو جفا کار اشرار کے دست تعدی سے تنگ آئے ہوئے تھے اپنے پہلے تجربہ کی بنا پر جو وہ ظالموں کی نسبت کر چکے تھے بولے وہ بھی کوئی ایسا ہی خون ریز بے رحم ہوگا جیسے عملی نمونے آگے موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ نے پھر جیسا سیاق کلام سے مفہوم ہوتا ہے اس شخص کا نشان انہیں دیا۔ان ملائکہ کو اس کی صفات و حالات کی تحقیقات کے بعد پوری تسلی ہوگئی اور اس کے محاسن کو دیکھ کر وہ دنگ ہو گئے۔ے جب کہا تیرے رب نے ملائکہ کو کہ میں اس سرزمین میں ایک خلیفہ بنایا چاہتا ہوں۔