تصدیق براھین احمدیہ — Page 125
تصدیق براہین احمدیہ ۱۲۵ بچا لیا۔اگر آردی کا چوتھا اصل کا عمل کے قابل صداقتوں پر مشتمل ہے۔اگر آپ راستی کے لینے پر ہر وقت مستعد ہیں تو انصاف کیجئے۔کیا قرآن کریم رد و انکار کے قابل ہے؟ ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں۔اب میں اس ویدک منتر کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کرتا ہوں جس کو مکذب نے وجود باری تعالیٰ کی دلیل سمجھ کر وید سے تکذیب براہین احمدیہ میں درج کیا ہے۔وشبُو يَرَمُ يَدَم سدا پشتی اس محیط کے عمدہ مقام کو ہمیشہ یکھتے ہیں سوريه عالم لوگ آسمانی فضا میں مانند آنکھ یا سورج کے لنبا ( مطلب ) علم والے محیط الکل خدا کے اچھے مقام کولنبی نظر یا سورج کی مانند دیکھتے ہیں۔نوٹ۔: قدیم سے اب تک ہر ایک قوم نے ناقص یا کامل طور پر کسی نہ کسی پیرائے سے وجود باری تعالیٰ کا اقرار ضرور کیا ہے اگر علی العموم نگاہ کی جاوے تو محض وجود حق سبحانہ وتعالیٰ اقوام عالم میں غیر متنازع فیہ ثابت ہوتا ہے۔ہاں قوموں نے اور قریباً کل قوموں نے جس امر میں نہ سنبھلنے کے قابل ٹھو کر کھائی وہ مسئلہ صفات ہے۔اسی اتنا کہہ دینے سے کہ خدا ہے کوئی فائدہ تو مترتب نہیں ہوسکتا۔وہ کیسی ذات ہے اس کو یعنی اس کی صفات کو عالم سے مخلوقات عالم سے کیا مناسبت کیسا تعلق واقع ہوا ہے۔انتظام عالم جذبات انواع مخلوقات خصوصاً نوع انسانی کے قومی کے تقاضا ؤں اور میلانوں کی ہیئت کذائی کس قسم کی صفات والا خدا چاہتی ہے۔صرف یہی ایک راہ ہے جس پر دنیا کے کسی مذہب نے کوئی روشنی نہیں ڈالی بلکہ ہر ایک نے اپنی اپنی نوبت پر اسے اور بھی دھندلا کیا ہے۔عیسائیوں نے خدا کو اس طرز پر بیان کیا کہ قالب انسانی میں پورا ڈھال کر ویسی ہی ضعیف اور ناقص ہستی ثابت کر دکھایا اور تشبیہ کی تاریک راہ اختیار کر کے سالک طریق کو حیرت میں ڈال دیا۔ہندؤوں ( دی سو کالڈ آریہ ) نے یہ غضب ڈھایا کہ ایک خیالی اور محض وہمی وجود کے ماننے پر قناعت کی اور صفات کاملہ سے اس پاک ذات کو قطعا معطل کر دیا کہ مادہ عالم اور ارواح اس کی مخلوق ہی نہیں۔اور وہ روح کے اصلی تقاضا یعنی سرمدی نجات دینے پر قادر نہیں وغیرہ اس عظیم الشان مسٹری (راز ) کو کھولا ہے تو اس مہیمن کتاب فرقان حمید نے کھولا ہے کہ وہ صانع، خالق، رازق، رب ، قادر ، رحمن ، رحیم ، سمیع، بصیر ہے اور ان صفات میں کامل ہے۔اور یہ اور ان کی مانند دیگر صفات ایسی ہیں جنہیں عالم کی ضروریات کے سرانجام کے ساتھ پوری مناسبت ہے۔اس پر بھی ہر قسم کے ممکن ظنون اور محتمل مشہوں کے مٹانے کو فرما دیا۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ (الشوری: ۱۳) سارا قرآن کریم مسئلہ صفات کے اکمل طور پر واضح کرنے کا ذمہ لیتا ہے اور طالبان نجات کو بتاتا ہے کہ ان کا منجی خدا کیسا ہونا چاہیئے۔(عبدالکریم صیح )