تصدیق براھین احمدیہ — Page 113
تصدیق براہین احمدیہ تفسیر مدارک میں ہے۔وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا (البقرة: ۳۵) اى اخضعوا له واقرؤا بالفضل له (تفسير النسفى المسمّى بمدارك التنزيل زير آيت سورة البقرة: (٣٥) غرض آدم علیہ السلام وہاں رہے اور ہر طرح اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرتے رہے اللہ تعالیٰ نے کہ دیا تھا کہ انگور یا الشجر اور انجیر کے پاس بھی نہ جانا۔وَقُلْنَا يَا دَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّلِمِينَ (البقرة : ٣٦) سعید بن جبیر، سدی شعمی ، جعدہ بن ہبیر ، محمد بن قیس عبد اللہ بن عباس، مرہ ابن مسعہ اور کئی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہی قول ہے کہ وہ انگور کا درخت تھا۔مدارک میں لکھا ہے کہ یہی درخت تمام فتنوں کی جڑھ ہے۔اور منذر بن سعید نے اپنی تفسیر میں ایسا ہی لکھا ہے۔جیسے امام ابن قیم نے حادی الارواح میں بیان کیا۔اور وہ جنت جس میں آدم علیہ السلام رہے وہ زمین پر تھا۔غور کر و دلائل ذیل پر والقول بانها جنة في الارض ليست بجنة الخلد قول ابی حنیفه الله عنه : و اصحابه رضی | و هذا ابن عيينة بقول في قوله عز و جل وان لك ان لا تجوع فيها ولا تعرى قال يعنى فى الارض وابن عيينة امام وابن نافع امام و هم ای المنكرون) لا ياتوننا بمثلهما - اور امام ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں فرمایا ہے۔خلق آدم و زوجة ثم تركهما و قال اعتمروا واكثروا واملئوا الارض و تسلطوا على الوان البحور وطير السماء والانعام و عشب لے اور ہم نے کہا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور جہاں چاہو اس میں سے کھاؤ پر اس درخت کے نزدیک نہ جائیو کہ گناہگار ہو جاؤ گے۔آدم اور اس کی بی بی کو پیدا کر کے فرمایا جاؤ آباد ہو بڑھو پھولو اور زمین کو بھر دو اور طرح طرح کے دریاؤں، آسمان کے پرندوں ، مویشیوں، زمین کی گھاس پات اور اس کے درخت و ثمر سب پر قابض ہو جاؤ پھر کہتا ہے کہ وہ (جنت جہاں یہ پیدا ہوئے اور یہ حکم ہوا ) زمین میں ہے پھر کہتا ہے فردوس کو بنایا اور اس میں چار نہریں بنائیں بیچون پیچون ، دجلہ ، فرات۔