ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات

by Other Authors

Page 13 of 56

ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 13

۱۳ کے زیر عنوان چالیسویں نمبر پر اس بے نظیر تالیف کا تعارف درج ذیل الفاظ میں کرایا :- ۴۰ - بشیر الدین محمود احمد مرزا خلیفہ ثانی جماعت احمدیہ ترجمہ قرآن مع تفسیر صغیر لاہور نقوش پر میں ۱۹۶۷ء کیفیت 1944 ء 1999 میں بہترین ایڈیشن آرٹ پیپر پر بڑی نفاست سے چھپا۔صفحہ دو کالی ہے۔ایک میں تمن دوسرے میں ترجمہ - حاشیہ میں تفسیری نوٹ دیئے گئے ہیں۔پہلا ایڈیشن 1904ء میں ربوہ سے شائع ہوا۔۶۱۹۵۶ تفسیر صغیر کا با محاورہ اردو ترجمہ جو اس مقالہ کا موضوع خاص ہے اپنی بے مثل اور امتیازی شان کے باعث عالم کبیر قرار دیا جائے تو قطعاً مبالغہ نہ ہوگا۔جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا تفسیر صغیر ربانی قوت وطاقت سے معرض وجود میں آئی اگر ہم واقعاتی نقطہ نگاہ سے غور کریں تو صاف معلوم ہوگا کہ تفسیر صغیر کا معرض وجود میں آنا تراجم قرآن کی دنیا کا ایک غیر معمولی اور ناقابل فراموش واقعہ ہے جس کے پیچھے ربانی قوت و طاقت صاف طور پر کار فرما نظر آتی ہے۔وجہ یہ کہ اس مبارک تالیف کے وقت سیدنا حضرت المصلح الموعوض کی عمر مبارک اڑسٹھ سال کے قریب تھی جو جنوبی ایشیا کے ماحول میں بڑھاپے کی عمر کہ سہو ہے۔۱۹۵۷ء چاہیے (ناقل )