ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 35
۳۵ " نَصْرُهُنَّ إِلَيْكَ " چونکہ اُس کے معنے مفردات اور اقرب الموارد میں قتل کرنے کے علاوہ سدھانے کے بھی لکھتے ہیں اس لیے حضرت مصلح موعوض نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ان کو اپنے ساتھ سدھالے" یہ معنے سیاق قرآن کے بھی مطابق ہیں۔جس پر لفظ الیٰ کا قرینہ موجود ہے کیونکہ یہ کہنا بے معنی ہے کہ پھر ان کو اپنی طرف قتل کر۔دوسرے تراجم :- اپنے پاس منگا لو راور ٹکڑے ٹکڑے کرا دو (مولانا فتح محمد صاحب جالندھری) بَصَابُرُ - بَصِيرَة کی جمع ہے جس کے معنے دلیل کے ہوتے ہیں اسی لیے حضرت مصلح موعود نے الاعراف آیت ۲۰۴ میں بصائر کا ترجمہ دلائل سے پیڑ کے الفاظ سے کیا ہے جو بہت لطیف ہے۔(دوسرے تراجم ) : یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے۔" ر مولانا احمد رضاخان صاحب بریلوی امام المسنت) سلامًا اور سلام سورۂ ہود آیت میں لکھا ہے وَلَقَدُ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى قَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَم - تفسیر صغیر میں اس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے:۔اور ہمارے فرستادے یقینا ابراہیم کے پاس خوشخبری لائے تھے (اور) کہا تھا ر ہماری طرف سے آپ کو ) سلام ہو۔اسر نے کہا (تمہارے لیے بھی ہمیشہ کی ) سلامتی ہو" آنے والے مہمانوں نے سلاماً کہا جو جملہ فعلیہ سلم سلاماً مرگ