تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 23
تاریخ احمدیت۔جلد 28 23 سال 1972ء آخر میں حضور نے اجتماعی دعا کرائی اور اس طرح یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔16 صاحبزادہ مرز امبارک احمد صاحب کی ساہیوال میں آمد صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے ماہ فروری ۱۹۷۲ء میں بطور صدر انصار اللہ ساہیوال کا دورہ کیا۔آپ اپنے دورہ کے دوران ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب امیر جماعت احمد یہ ساہیوال کے مکان پر بھی تشریف لے گئے۔آپ اپنے اس سفر کے دوران پاک پتن بھی تشریف لے گئے اور تمام احباب جماعت سے ملاقات کی۔واپسی پر آپ چک L-11 / 6 ضلع ساہیوال بھی تشریف لے گئے اور انصار اللہ ضلع ساہیوال کے اجلاس میں بھی شرکت فرمائی۔اگلے روز آپ نے شیخو پورہ میں انصار اللہ کے ایک پروگرام میں شرکت فرمائی۔اور پھر واپس مرکز سلسلہ تشریف لے آئے۔16 صدر ذوالفقار علی بھٹو کی زرعی اصلاحات یکم مارچ ۱۹۷۲ء کو صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو نے ریڈیو پاکستان سے قوم کے نام خطاب کرتے ہوئے زرعی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے زمین کی ملکیت کے معاملہ میں فی خاندان یا فی کس کے مسئلے پر بڑی سنجیدگی سے غور کیا ہے۔اور اس فیصلہ پر پہنچی ہے کہ خاندان کی بجائے انفرادی ملکیت کو ترجیح دی جائے۔نیز سر حدی اضلاع میں فوجیوں کو اراضی الاٹ کرنے کی جو سکیم تھی حکومت نے ایسے تمام سودے اور تبادلے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس فیصلہ کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کی ہزاروں ایکڑ زمین بغیر کسی معاوضہ کے حکومت نے اپنے قبضہ میں کر لی۔یہ زمینیں زیادہ تر ۳۴۔۱۹۳۳ میں خریدی گئی تھیں۔حضرت مصلح موعود نے خود ذاتی طور پر بھی زمین خرید فرمائی اور اس کے علاوہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید نے بھی زمینیں خریدیں۔اسی طرح بعض دوسرے معروف احمدی خاندانوں نے بھی رقبہ خریدا۔جس سے سندھ کا ایک بڑا علاقہ بھی احمدیت کے نور سے منور ہو گیا۔چنانچہ ایک زمانہ میں ضلع تھر پارکر میں جھڈو ریلوے اسٹیشن سے پتھورو تک کی ریل احمدیوں کی زمینوں کو ملاتی ہوئی گزرتی ، جس کا نام تقسیم سے پہلے جودھپور ریلوے تھا جو بعد میں پاکستان ریلوے بن گئی۔حیدر آباد سے بمبئی تک یہ چھوٹی پڑی کی ریلوے لائن تھی یعنی ایک میٹر چوڑی، اس لئے اسے میٹر کی بھی کہا جاتا تھا۔اب حیدر آباد اور میر پور خاص کے حصہ کو تو بڑی پڑی میں تبدیل کیا جا چکا ہے اور چھوٹی ٹرین میر پور خاص سے بذریعہ جمڑ او یا پتھو رو چکر کاٹ کر