تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 321
تاریخ احمدیت۔جلد 28 321 سال 1972ء روپے کا انعام میری طرف سے دیا جائے گا۔آخر خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے اسی لئے ہیں کہ ہم ان کو دیکھیں اور ان پر غور کریں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے ساتھ پیار بڑھتا ہے۔بعض دفعہ ایک چھوٹی سی چیز ہوتی ہے لیکن اس میں بھی بڑا حسن نظر آتا ہے۔مثلاً یہ چھوٹی سی تلی جو ادھر سے اُدھراڑ رہی ہوتی ہے اس کے اوپر رنگ اس قدر خوبصورت اور خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے مختلف رنگ کے بیل بوٹے اس ہوشیاری کے ساتھ بنائے ہوتے ہیں کہ اگر انسان بنائے تو وہ کہے کہ میں اس کو شاید دس ہزار روپے میں بیچوں گا۔کیونکہ اس پر میرا بڑا وقت لگا ہے۔اس پر میں نے بڑا خرچ کیا ہے اور بڑی دماغ سوزی کی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور اس مادہ کو حکم دیا تو وہ خوبصورت تتلی کی شکل میں ہمارے سامنے آجاتی ہے لیکن آپ گذر جاتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ یہ اتفاق سے آپ کے سامنے نہیں آگئی ( دنیا میں اتفاق کا لفظ غلط طور پر استعمال ہوتا ہے ) اُسے تو متصرف بالا رادہ ہستی نے پیدا کیا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے جلوے ہیں جو تمہارے سامنے آتے ہیں تاکہ تم ان پر غور کرو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔23 اس ہدایت کی تعمیل میں حضور کی اجازت سے سیر کے پہلے مقابلہ کے لئے ۱۲ مئی ۱۹۷۲ء کا دن اور صبح ساڑھے پانچ بجے سے ساڑھے سات بجے کا وقت مقرر کیا گیا اور اس کے حسب ذیل قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے۔ا۔سیر میں دو گھنٹے صرف کئے جائیں۔۲۔سیر سے واپسی پر احباب اپنے مشاہدات و تاثرات احاطہ تحریر میں لائیں گے۔یہ مضامین کنوینر مجلس صحت کو ۱۳ مئی ۱۹۷۲ء بروز ہفتہ شام چھ بجے تک پہنچ جائیں۔خدام و انصار کے زعماء کی طرف سے رپورٹ کا آنا بھی ضروری ہے کہ ان کے حلقہ سے کتنے احباب نے سیر میں حصہ لیا اور کتنے مضامین بھجوائے گئے۔۳۔جو دوست خود نہ لکھ سکتے ہوں وہ اپنے زعیم صاحب کو مضمون لکھوا دیں۔۴۔مضامین کا حضور کی مقرر کردہ کمیٹی جائزہ لے گی۔۵۔مقامی احباب یہ اچھی طرح نوٹ کر لیں کہ مضمون کا معیار انتخاب زبان اور زور تحریر نہیں ہے بلکہ مشاہدہ کی وسعت اور گہرائی ہے۔اس لئے کم تعلیم یافتہ احباب بھی ایسی ہی سہولت سے مقابلہ میں حصہ لے سکتے ہیں جیسے زیادہ تعلیم یافتہ۔24