تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 89 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 89

تاریخ احمدیت۔جلد 28 89 سال 1972ء روپے فیس لینے والے ڈاکٹروں کے پاس تو دو تین مریض آتے ہیں مگر ان کے پاس روزانہ سو دو سو مریض آتے تھے اور اس طرح روزانہ ۳-۴ سو مارک کی کمائی تھی۔اُس زمانے میں روپے اور مارک میں تھوڑا سا فرق تھا۔فرض کریں اگر تین سو روپے یومیہ ہو تو بارہ ہزار مہینے کی آمد تھی۔لیکن جو حریص ڈاکٹر ہے اس نے یہ ہنر تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کیا مگر خدمت خلق کے جذبہ سے محروم رہنے کی وجہ سے وہ دنیوی لحاظ سے بھی ناکام ہوا۔یہ اس کی اپنی غلطی ہے۔میں کہتا ہوں اگر ہمارا احمدی ڈاکٹر خدمت خلق کے جذبہ سے اور پیار کے ساتھ اور اس تڑپ کے ساتھ کہ غریب سے غریب بیمار بھی آئے گا تو میں اسے بہتر سے بہتر مشورہ دوں گا۔اگر اس طرح وہ کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت ڈال دے گا۔73 سالانہ تربیتی کلاس مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ اس سال ۱۹۷۲ء میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی انیسویں سالانہ تربیتی کلاس ۲۶ مئی تا ۸ جون بمقام ایوان محمود منعقد ہوئی جس میں ملک بھر سے ۲۹۸ مجالس خدام الاحمدیہ کے ۴۷۴ خدام شامل ہوئے۔14 جناب لئیق احمد صاحب طاہر حال مبلغ انگلستان) نے ناظم اعلیٰ کے فرائض سرانجام دیئے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نو نہالان جماعت کو دو بار اپنے روح پرور خطاب سے نوازا۔خطاب حضور انور حضور انور نے مورخہ ۷ جون کو سالانہ تربیتی کلاس سے روح پرور خطاب فرمایا۔حضور انور نے بعض لوگوں کی طرف سے احمدیت کی مخالفت میں متضاد اور غیر معقول رویے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ احمدی ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کریں۔عیسائیوں ، مشرکوں، دہریوں اور بت پرستوں کو کلمہ طیبہ پڑھا کر حلقہ بگوش اسلام کریں مگر وہ خود کافر ہوں۔یہ بات عقلاً نا قابل تسلیم ہے۔حضور نے وجد آفرین انداز میں عقائد احمدیت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح فرمایا کہ ہم خدا تعالیٰ کو واحد و یگانہ سمجھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی معنوں میں خاتم الانبیاء مانتے ہیں۔ہم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کریم کو ہر اعتبار سے کامل ومکمل کتاب یقین کرتے ہیں۔