تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 87
تاریخ احمدیت۔جلد 28 87 سال 1972ء قسم کا چھلا بن کر آ گیا ہے اور چونکہ یہ پلاسٹک کا ہے اس لئے اس کی قیمت صرف ایک آنہ ہے۔دراصل میں چاہتا تھا کہ یہ مہنگا نہ ہوتا کہ ہمارا ہر بچہ یا اس کے ماں باپ بغیر تکلیف کے خرید سکیں۔اس کے اوپر دو مختلف فقرے لکھے ہوئے ہیں۔ایک القدرة الله “ اور دوسرا العِزَّةُ لِله “ - القدرة الله عام نشان ہے۔ہر احمدی نوجوان کا جو مجلس صحت کا ممبر بنے گا اور ” العِز اللہ کھیلنے والوں کے قائدین کو عارضی طور پر دیا جائے گا۔اس سلسلہ میں ایک چیز ابھی پوری نہیں ہوئی ہوتی اور وہ یہ ہے کہ میں نے کچھ رومال بنوائے تھے لیکن کپڑا ابھی مجھے اپنی پسند کا نہیں ملا۔اگر کوئی صاحب کسی جگہ سے سکاوٹس کا رومال مجھے لا کر دے سکیں تو شاید میں کپڑے کی بھی تعیین کر کے کچھ اور رومال بنوا دوں۔میں چاہتا ہوں کہ جون کے آخر تک کم از کم ایک سواحمدی بچوں کو یہ رومال اور چھلا مہیا کر دیا جائے اور پھر جب چھٹیوں کے بعد سکول وغیرہ لگیں تو اس وقت وہ رومال اور چھلا جو مجلس صحت کے ممبر ہونے کی نشانی ہے وہ سارے ربوہ کو دے دیا جائے اور پھر کسی وقت ہم ایک جگہ پانچ سو یا ہزار ، دو ہزار چھوٹے اور بڑے سب کی پی ٹی کروائیں گے۔پی ٹی ایک ایسی ورزش ہے جو دماغ میں اجتماعی روح کا تصور پیدا کرتی ہے۔کیونکہ جو اجتماعی حرکات ہیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قانون ایک حسن پیدا کرتا ہے۔پی ٹی میں بھی ایک ہی وقت میں دو ہزار آدمیوں کے ہاتھ یکساں طور سے اٹھیں اور حرکت کریں تو اس سے بھی ایک حسن پیدا ہوتا ہے۔پی ٹی کی ورزش میں جو اجتماعی روح ہے یہ بڑے پیمانے پر نظر آتی ہے۔چھوٹے پیمانے پر مسجد میں نماز کے وقت ہمیں یہی سکھایا گیا ہے۔نماز کی حرکات بھی ڈسپلن پیدا کرتی ہیں مگر نہ ہماری ان کی طرف توجہ ہوتی ہے اور نہ ہم ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔نماز میں ہر وقت اور ہر ایک کی اپنی توجہ ہے لیکن جب غیر آدمی دیکھتا ہے تو وہ اس سے ایک اثر قبول کرتا ہے مگر پی ٹی کرنے والے تو ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ وہ قریبا سبھی ایک دوسرے کی کم از کم بعض حرکتیں تو ضرور دیکھ رہے ہوتے ہیں۔پس اجتماعی ورزش کے اندر اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ بڑا حسین ہے اس نے ہر چیز میں حسن پیدا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس کے حسن