تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 86 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 86

تاریخ احمدیت۔جلد 28 86 سال 1972ء مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں ان کو عصر اور مغرب کے درمیان دوڑا دوڑا کر اتنا تھکا دوں کہ وہ عشاء کے بعد گھر سے باہر نکل ہی نہ سکیں۔چنانچہ میں ان تمام لڑکوں کو جو فٹ بال اور ہا کی نہیں کھیلتے تھے۔ان سب کو ہائی سکول کے میدان میں روزانہ اکٹھا کرتا تھا (یہ بہت بڑا میدان تھا آپ میں سے بہتوں نے اس میدان کو نہیں دیکھا ہوگا ) اور پھر ان کی خوب دوڑ لگواتا تھا اور ان کو اتنا تھکا دیتا تھا کہ پھر وہ عشاء کے بعد گھر سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔یہ ایک الجھن تھی جسے میں نے اس طرح دور کر دیا تھا۔پس ورزش کے بہت فائدے ہیں مثلاً ورزش کرنے سے گہری اور صحت مند نیند آتی ہے۔ربوہ کے تمام تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس کا انتظام کریں اور لڑکوں کو اتنی ورزش کروائیں کہ ورزش کے بعد جو ابتداء میں تھکان اور کوفت محسوس ہوتی ہے وہ نہ رہے۔یہ بھی ورزش کا ایک اصول ہے۔مثلاً گھوڑوں کے متعلق لوگوں نے کہا ہے کہ ان کو اتنی ورزش کرواؤ کہ جس وقت وہ واپس تھان پر آئیں تو اتنے ہی تازہ دم ہوں جتنے ورزش کے لئے باہر لے جاتے وقت تازہ دم تھے۔پس یہ تو ٹھیک ہے کہ شروع میں کچھ تھکان محسوس ہوگی لیکن یہ آہستہ آہستہ دور ہو جائے گی۔ہمارے نوجوانوں کو اتنا مضبوط بن جانا چاہیے کہ اگر عرب گھوڑے کی طرح انہیں سومیل پیدل بھی چلنا پڑے تو چھلانگیں مارتے ہوئے جائیں اور واپس آ جائیں مگر کوئی کوفت محسوس نہ کریں۔یہ عادت کی بات ہے اور ورزش کرنے سے یہ ایک خاص عادت بھی پیدا ہوتی ہے۔ہم زندگی کے ہر میدان میں آگے نکلیں۔جماعت احمدیہ کے افراد دنیا کے قائد بن جائیں۔اس قیادت کے حصول میں کھیلیں بھی شامل ہیں پھر کھیلوں میں ہر کھیل شامل ہے“۔اجتماعی دعا کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں۔میں نے اس سلسلہ میں آپ کو ایک رومال کا تخیل اور اس کو اپنی جگہ پر قائم رکھنے کے چھٹے کا تصور دیا تھا۔چھتے تو پلاسٹک کے بن گئے ہیں۔اس میں ہمیں بہت کچھ ریسرچ کرنی پڑی ہے اور بہت تحقیق کرنی پڑی ہے۔بہت تجربہ کرنا پڑا ہے۔چنانچہ جس طرح کا میں چاہتا تھا اس