تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 84
تاریخ احمدیت۔جلد 28 84 سال 1972ء نے مسجد قرطبہ پر اپنا مقالہ پڑھا۔محترم سید عبدائی صاحب نے مسجدوں کے ذریعہ نفع اندوزی کے موضوع پر اور محترم چودھری ظہور احمد صاحب باجوہ نے اسلام کے مقررہ کردہ اصول جنگ کے زیر عنوان اپنے مضامین پڑھ کر سنائے۔آخر میں صاحب صدر نے اجتماعی دعا کرائی۔67 تیسرا اجلاس مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۷۲ء بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں مجلس ارشاد مرکز یہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کثرت کے ساتھ مقامی احباب اور بعض بیرونی دوست بھی شامل ہوئے۔حضرت خلیفۃ مسیح الثالث ناسازی طبع کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔اس لئے حضور کی زیر ہدایت محترم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا ( صوبائی امیر ) نے صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جو کہ مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے کی۔بعد ازاں مکرم رفیق الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام پڑھ کر سنایا۔اس اجلاس میں مسعود احمد صاحب جہلمی سابق مبلغ مغربی جرمنی محمد شفیع صاحب اشرف مربی سلسلہ اور مکرم میاں محمد ابراہیم صاحب سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول نے اپنے مقالے پڑھے جن کے موضوع علی الترتیب یہ تھے۔(۱) ملائکہ کی حقیقت۔(۲) ینصرک رجال نوحى اليهم من السماء۔(۳) فریق لاہور کی علیحدگی کے اسباب۔68 ربوہ کو ایک مثالی شہر بنانے کا عزم حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ربوہ کو صفائی اور باغات کے لحاظ سے ایک مثالی شہر بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے حضور انور نے ایک مجلس صحت کی تشکیل فرمائی۔حضور انور دو مرتبه مجلس صحت کے زیر انتظام کئے جانے والے وقار عمل کا معاینہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے اور موقع پر ہدایات جاری فرما ئیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ چین میں لوگوں نے وقار عمل کی روح پر عمل کرتے ہوئے بڑے بڑے عظیم ڈیم وغیرہ بنائے۔ہمارے نو جوانوں میں تو اسلامی روح اور جذبہ کے ماتحت ان سے بہت زیادہ کام کرنے کی خواہش ہونی چاہئے۔فرمایا اب انشاء اللہ بہت جلد ربوہ کوگل و گلزار بنا دیا جائے گا۔حضور انور نے دونوں مرتبہ دوروں کے دوران اپنے ہاتھ سے کدال بھی چلائی اور اس طرح خدام کی حوصلہ افزائی فرمائی۔69