تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 80 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 80

تاریخ احمدیت۔جلد 28 80 سال 1972ء آخر میں حضرت امام ہمام نے اہل پاکستان کو توجہ دلائی کہ اگر انہیں دنیا میں عزت کا مقام حاصل کرنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ صحیح تو کل اور عزم پیدا کریں چنانچہ فرمایا:۔”جہاں ہمارے لئے یہ امر انتہائی دکھ دہ ہے کہ مشرقی پاکستان عارضی طور پر ہم سے جدا ہو گیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ خوشی کا سامان پیدا کر دیا ہے کہ لاقانونیت اور مارشل لاء کا دور ختم ہوا اور قانون اور عوامی حکومت کا دور شروع ہو گیا ہے۔عوامی جمہوریہ دراصل مشاورت کے اصول پر قائم ہوتی ہے اسلام کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ باہم مشورہ کے ساتھ حکومت کا نظم ونسق چلانا ہے۔چنانچہ یہ مسئلہ تو طے ہو گیا ہے اس وقت میں جماعت کو جس امر کے متعلق توجہ دلانا چاہتا ہوں۔وہ ان کی دعا کرنے کی ذمہ داری ہے۔جماعت کو اس طرف بھی متوجہ رہنا چاہیے۔دراصل جہاں تک مشورہ کا تعلق تھا وہ لیجیسلیچر یعنی منتخب نمائندوں کی اسمبلی (جسے زیادہ تر ان ووٹوں نے منتخب کیا ہے جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے ) قائم ہوگئی۔مارشل لاء ختم ہو گیا۔اب انہوں نے سوچنا بھی ہے مشورے بھی کرنے ہیں۔مشورے تو ہوں گے لیکن دنیا کا کام محض مشوروں سے کامیابی تک نہیں پہنچتا۔پس مشورہ کے علاوہ دو اور چیزوں کی ضرورت ہے قرآن کریم کہتا ہے کہ فلاح و کامیابی کے لئے ایک تو عزم اور دوسرے تو کل کی ضرورت ہے اگر کوئی مشورہ عزم پر منتج نہ ہو یعنی اگر لوگ ویسے ہی باتیں بنائیں اور دھواں دار تقریریں کریں اور پھر منتشر ہو جائیں تو یہ لا یعنی مشورہ ہے۔مشورہ اگر صحیح راہ پر ہے تو اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے عزم کا ہونا ضروری ہے ورنہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔پس مجلس مشاورت یعنی لیجیسلیچر کے سامان تو پیدا ہو گئے لیکن اگر ہمارے ملک اور ہماری قوم نے ترقی کرنی ہے اور دنیا میں عزت کا کوئی مقام حاصل کرنا ہے تو اس کے لئے از بس ضروری ہے کہ مشاورت یعنی لیجیسلیچر کے مشوروں کے بعد صحیح عزم اور صحیح تو کل پیدا ہو۔اس کے لئے ہمیں دعا کرنی چاہیے۔64