تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 72 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 72

تاریخ احمدیت۔جلد 28 72 سال 1972ء زمین کے اوپر باہر ہے، ایسا تین مرتبہ ہوا۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانو ! سنو زمین اس سے زیادہ شریر کو قبول کر لیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو تا کہ تم میں سے کوئی شخص اس آدمی کے قتل کرنے میں جلد بازی نہ کرے جو لا الہ الا اللہ کی گواہی دے یا کہے کہ میں مسلمان ہوں۔جاؤ بنی فلاں کی گھائی میں اسے دفن کر دو اور زمین اسے قبول کر لے گی۔تو انہوں نے اس گھاٹی میں اسے دفن کر دیا۔دوم: صحیح بخاری میں ہے: "مَنْ صَلَّى صَلُوتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبَلتَنَا وَ اكَلَ ذَبِيحَتَنَا ،، فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِى لَهُ ذِمَّةُ الله وَ ذِمَّة رَسُوْلِ اللَّهُ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهُ فِي ذِمَّتِهِ 60 ترجمہ : جو شخص ہماری طرح نماز پڑھتا ہے۔ہمارے قبلے کی طرف منہ کرتا ہے اور ہمارے ذبیحہ کوکھا تا ہے وہ مسلمان ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی حفاظت اس کو حاصل ہے پس اے مسلمانو اس کو کسی قسم کی تکلیف دے کر خدا تعالیٰ کو اس کے عہد میں جھوٹا نہ بناؤ۔وو اس حدیث کے پیش نظر سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی امیر جماعت اسلامی اپنی تصنیف دستوری سفارشات اور ان پر تنقید و تبصرہ میں لکھتے ہیں:۔اسلامی حکومت کا چوتھا اصول یہ ہے کہ اس میں لوگوں کو جان، مال اور عزت کے تحفظ کی جو ضمانت دی جائے گی وہ کسی شخص یا گروہ کی طرف سے نہیں بلکہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی جائے گی اور قانون خداوندی کے سوا کسی دوسرے قانون کے تحت کسی شخص کے ان بنیادی حقوق پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکے گا اور دستوری قاعدے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:۔جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم ادا کرتے ہیں اس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھا یا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے پس تم اللہ کے دیئے ہوئے ذقے میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو“۔اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اسلامی حکومت میں شہریوں کو بنیادی حقوق کی جو ضمانت دی جاتی ہے وہ دراصل خدا اور رسول کی طرف سے نیا بنہ دی جاتی ہے اور اگر کوئی حکومت یہ ضمانت دینے کے بعد قانونِ الہی کے سوا کسی دوسرے طریقے پر شہریوں کے اس حق کو چھینے تو وہ دراصل خدا کے ساتھ