تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 64
تاریخ احمدیت۔جلد 28 64 سال 1972ء نوے فیصد یا اس سے بھی زیادہ احباب کا فیصلہ یہی تھا کہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دینا ہے چونکہ مختلف حلقہ ہائے انتخاب میں جماعت احمدیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ملک کی فلاح اور بہبود کی خاطر ان کے نزدیک (جو بھی اللہ تعالیٰ نے کسی کو عقل و فراست عطا کی تھی اسی کے مطابق اس نے کام کرنا ہے) پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے چاہیے تھے ان کو کامیاب کروانا چاہیے تھا۔چنانچہ انہوں نے کوشش کی اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور وہ بڑی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔اگر مغربی پاکستان میں کوئی ایک پارٹی اس طرح کامیاب نہ ہوتی جس طرح پیپلز پارٹی ہوئی ہے تو آج ہمارا حال مشرقی پاکستان سے بھی زیادہ بدتر ہونا تھا۔یہ خدائی مصلحت تھی وہ غیب کی باتیں جانتا ہے۔50 66 حضور نے اپنے خطاب کے آخر میں ۱۹۵۳ء کی ایجی ٹیشن اور مخالف علماء کے احمدیوں کے خلاف فتاوی کفر پر تبصرہ کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ:۔اب پھر کسی نے مجھے کہا ہے کہ بعض علماء ظاہر بڑی خوشی سے یہ باتیں کر رہے ہیں کہ دستور میں ہم یہ شق ضرور رکھوائیں گے کہ جماعت احمد یہ غیر مسلم اقلیت ہے اس کا جواب مجھے دو گروہوں کو ، دو جماعتوں کو دینا چاہیے۔ایک تو علماء ظاہر، ان کو تو میں کہوں گا کہ اسی سالہ کفر کے فتوے(ساٹھ سال کے بعد تو انہوں نے یہ کوشش کی تھی کہ حکومت بھی کفر کے فتوے میں شریک ہومگر حکومت شریک نہیں ہوئی اس میں بھی ان کو ناکامی ہوئی) نا کام ہو چکے ہیں اور آج سے ہیں سال قبل آپ نے اپنی ناکامی کا اعلان کر دیا تھا۔جس دن آپ نے حکومت سے کہا احمدیوں پر کفر کا فتویٰ لگاؤ تو گویا آپ نے اپنی ناکامی کا اعلان کر دیا۔اسی سال سے آپ ناکام ہوتے چلے آرہے ہیں اور اگر آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت نے سنبھالا نہیں تو اگر یہ دنیا اسی کروڑ سال تک قائم رہی تو آپ اسی کروڑ سال تک نا کام ہوتے رہیں گے اور ہم تو زندہ رہنے اور زندگی دینے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔روحانی مردوں کو زندگی عطا کریں گے اور وہ کامل زندگی، وہ روشن زندگی ، وہ منور زندگی ہماری وجہ سے یا ہمارے ذریعہ سے اللہ کے فضل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے طفیل ان کو ملے گی کہ ان کے دل ہمارے لئے شکر کے جذبات سے معمور ہو جائیں گے۔وہ تمہارے کفر کے فتووں کو