تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 63
تاریخ احمدیت۔جلد 28 63 سال 1972ء ہمیں کیا دلچسپی ہے حکومتوں سے۔حکومتیں تو تم کو جو اس وقت حاکم خاندان ہو خدا مبارک کرے لیکن جو دینی کام ہیں وہ احمدیت ہی کو کرنے پڑیں گے انشاء اللہ اور پھر اس وقت جو اشد ترین بغض رکھنے والا اور مخالفت کرنے اور گندہ دہنی کرنے والا اور ایذا رسانی کرنے والا اور خود کو مسلمان ہونے کا اعلان کرنے والا ہوگا اس پر جماعت احمدیہ کے انتظام میں خانہ کعبہ کے دروازے بند نہیں کئے جائیں گے۔انشاء اللہ۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے یہ دروازے کھولے ہیں کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے ان دروازوں کو بند کر دے اور کسی انسان کو یہ اخلاقی اور مذہبی جرأت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عارضی طور پر ان دروازوں کو کسی قوم پر بند کرے مگر یہ تو نصیحت ہے جو میں آج کر رہا ہوں باقی جو واقعات اور حقائق ہیں مستقبل کے وہ اپنے وقت پر ایک ٹھوس حقیقت بن کر دنیا کے سامنے آئیں گے اور ایک لحظہ کے لئے میرے دل میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہوا نہ آپ کے دل میں پیدا ہونا چاہیے۔49 اس کے بعد حضور نے دسمبر ۱۹۷۰ ء کے ملکی الیکشن میں جماعتی پالیسی کی نسبت وضاحت کے ساتھ بتلا یا کہ:۔ہم ایک مذہبی جماعت ہیں کسی ایک سیاسی جماعت یا پارٹی کے ساتھ ہم اتحاد نہیں کر سکتے لیکن الہی منشاء کے مطابق جو مجھ پر کئی خوابوں کے ذریعہ ظاہر ہوا ملک کے حالات کے لحاظ سے ضروری سمجھا گیا کہ اکثر مقامات پر احمدی پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے افراد نے ان کا ساتھ دیا اور چونکہ احمدی باوفا قوم ہے جس جگہ قیوم لیگ کا ساتھ دیا دل سے ساتھ دیا اور پوری کوشش کی ، جس جگہ کنونشن کا ساتھ دیا وہاں بھی پوری کوشش کی۔جہاں آزاد ممبروں کی حمایت کی وہاں بھی پوری کوشش کی مثلاً ضلع جھنگ ہے یہاں ہمارا مرکز ہے ایک آزاد ممبر قومی اسمبلی کا تھا اور اس کے مقابلہ میں پیپلز پارٹی کا نمائندہ تھا اور ایک صوبائی اسمبلی کا آزاد ممبر تھا جس کے مقابلے پر ہمارے کہنے پر پیپلز پارٹی نے آدمی کھڑا نہیں کیا تھا یہ دونوں اچھے ووٹوں سے منتخب ہو گئے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر جماعتوں کے شاید