تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 62 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 62

تاریخ احمدیت۔جلد 28 62 سال 1972ء ہے اس واسطے تم کا فر ہو۔انہوں نے کہا کہ میں تو کافر نہیں ہوں میں تو خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں لیکن یہ جھوٹا الزام ہے کہ میں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے کیونکہ میں مہدی نہیں ہو سکتا اور نہ مہدی ہونے کا دعوی کر سکتا ہوں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کی جو علامات بتائی ہیں وہ میری زندگی میں پوری نہیں ہورہی ہیں لیکن ایک بات میں تمہیں بتا دیتا ہوں اور یہ بڑی دلچسپ بات ہے۔اب وہ شخص عالم الغیب نہیں جو بات انہوں نے بتائی وہ اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے بتائی۔انہوں نے لکھا کہ ایک بات میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ مہدی کے ظہور کا زمانہ بالکل قریب آگیا ہے اور اگلی ہجری صدی مہدی معہود کی ہے۔اس کے بعد ۱۸۱۸ء میں وہ فوت ہوئے اور ۳۶-۱۸۳۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور اگلی صدی میں دعوی کر دیا۔یہ خبر تو وہ خدا تعالیٰ سے پا کر دے سکتے تھے کہ مہدی کا زمانہ بالکل قریب ہے۔تو میں یہ بتا رہا ہوں کہ اگر واقعہ میں ( بلکہ ہمارا یقین ہے کہ واقعہ یہی ہے ) مرزا غلام احمد قادیانی خدا کے مسیح اور مہدی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور حبیب اور سلامتی کی دعائیں حاصل کرنے والے اور اسلام کے غلبہ کو اس زمانہ میں قائم اور مستحکم کرنے والے ہیں تو پھر ساری دنیا آپ کی جماعت میں داخل ہوگی اور اس میں سعودی عرب باہر نہیں رہے گا۔یہ تو ہے عقلی دلیل۔اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ آپ کو یہ بھی بتایا کہ آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ نظارہ دکھایا کہ سعودی عرب میں احمدی ہی احمدی ہیں۔اس واسطے میں نے کہا تھا کہ یہ دروازے جو تم عارضی طور پر تو بند کر سکتے ہو ہمیشہ کیلئے بند نہیں کر سکتے لیکن جہاں تک احمدیت کے نظام کا تعلق ہے اس میں بعض لوگ بعض دفعہ غلطی کر جاتے ہیں۔دوست اپنی زبان کے محاوروں کو درست رکھا کریں۔ہمیں قطعاً کسی حکومت کی ضرورت نہیں ہے لیکن روحانی انتظام ہمارے ہی مشوروں سے ہوا کرے گا اور وہ ہمیں ملے گا۔حکومت ہم نہیں چاہتے دنیا میں دنیوی فراستیں رکھنے والے لوگوں کو حکومتیں مبارک ہوں ہمیں حکومتوں سے کوئی غرض نہیں۔بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں سے مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا