تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 61 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 61

تاریخ احمدیت۔جلد 28 61 سال 1972ء وہ کمزوریاں ان لوگوں میں ہیں جن کے ہاتھ میں اس وقت اللہ تعالیٰ نے حکومت کی باگ ڈور دی ہوئی ہے اور وہ اپنے فرائض کو فراست اور عقل اور ہمدردی اور اخوت سے نہیں نباہ رہے یہ ایک حقیقت ہے اور اس کے اعلان میں مجھے کوئی باک نہیں لیکن وہاں کے جو عوام ہیں ان کے متعلق یہ بدظنی کبھی نہ کریں کہ وہ بھی ہماری باتیں سننے کیلئے تیار نہیں۔وہ ہماری باتیں سنتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ مثلاً عراق میں ہمارے علم میں کوئی احمدی نہیں تھا۔باہر سے گئے ہوئے ہیں وہ وہاں ہیں۔ایک عراقی وفد مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس میں جو مدینہ یا مکہ یا جدہ میں منعقد ہورہا تھا اس میں شرکت کے لئے گیا۔تو وفد کے اراکین میں ایک احمدی دوست بھی شامل تھے ہمیں اس کا کچھ پتہ نہیں تھا اور جس وقت وہ عراق سے باہر نکلے اور سعودی عرب ( یعنی غیر ملک) میں داخل ہوئے تو وہاں سے انہوں نے مجھے خط لکھا جس میں انہوں نے بڑے اخلاص اور محبت اور نیک جذبات کا اظہار کیا اور جماعت کی ترقی کے متعلق دعائیں کیں اور بتایا کہ وہ مؤتمر عالم اسلامی کے عراقی وفد میں شامل ہیں لیکن عراق کا اپنا پتہ نہیں دیا تھا۔سعودی عرب میں مؤتمر عالم اسلامی کا تو دے دیا اس واسطے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں کے حالات اس وقت ساز گار نہیں ہیں۔سعودی عرب میں بیت اللہ شریف کے متعلق کل میں نے کہا تھا کہ یہ تو ہمارا ہے اللہ تعالیٰ نے علاوہ عقلی دلیل کے جو ہمارے دماغ میں آئی ہے کہ اگر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام واقعہ میں مسیح اور مہدی ہیں اور خدائی وعدے اور بشارتوں کے ساتھ جو قریباً معروف انبیاء میں سے سب کو دی گئی تھیں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار میں سے جن کے نام کا بھی پتہ نہیں ان کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔لیکن جن کے حالات ہم جانتے ہیں اور جن کے متعلق تاریخ نے ریکارڈ کر کے بعض باتیں پہنچائی ہیں ان میں سے اکثر نے خبر دی ہے خواہ انکا تعلق ایران سے تھا یا جو ہندوستان کہلاتا تھا وہاں کے بھی اور دوسرے ملکوں کے انبیاء نے بھی دی۔پھر محدثین نے خبر دی۔میں اکثر نائیجیریا کے حضرت عثمان بن فود یو کا ذکر کرتا ہوں جنہوں نے بڑی دلچسپ کتا میں لکھی ہیں ان پر کسی نے اعتراض کر دیا کہ تم تو کافر ہو اور کافر اس لئے ہو کہ تم نے مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا