تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 59
تاریخ احمدیت۔جلد 28 59 سال 1972ء اندازہ نہیں کر سکتے۔پھر میں نے سوچا کہ اس دکھ میں آپ کو بھی شریک کروں اور جو زخم میری روح پر لگایا گیا ہے آپ بھی اس زخم کا مزہ چکھیں۔اس لئے میں نے یہ تجویز مجلس شوریٰ میں پیش کرنے کا حکم دیا ورنہ صدر انجمن احمدیہ کی سفارش تھی کہ اسے مجلس میں پیش نہ کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک واقف کے خیالات جو ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ادا کئے جا سکتے ہیں وہ آپ نے واقفین کے منہ سے سن لئے ہیں اور جو واقف نہیں ہیں جنہوں نے اس دنیا کا مزہ نہیں چکھا اس کا حسن نہیں دیکھا اس کا سرور حاصل نہیں کیا خدا کی محبت کے جو جلوے اس میدان میں انسان پر ظاہر ہوتے ہیں وہ ان پر ظاہر نہیں ہوئے کہ اس دنیا کے رہنے والوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں (اور یہی غرض تھی اس تجویز کو شوری میں رکھنے کی ) کہ اس قسم کی ساری تجاویز ہمیشہ رڈ کر دی جاتی ہیں ایسی تجاویز آئندہ پیش نہیں ہوں مدار فضل گئی۔48 اس ارشاد مبارک کے بعد حضور کی ہدایت پر کرنل عطاء اللہ صاحب نائب صدر فاؤنڈیشن نے اس ادارہ کی سالانہ رپورٹ پیش کی جس کے بعد حضرت امام ہمام نے پر معارف اختتامی خطاب فرمایا جس کے آغاز میں اشاعتِ قرآن کریم کے اُس عظیم منصوبہ کی تفصیلات پر روشنی ڈالی جو خلافت ثالثہ کے عہد مبارک میں جاری کیا گیا۔ازاں بعد احمد یہ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کی سکیم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔وو ریڈیو سٹیشن کے قیام کا بڑا فائدہ ہے۔یہ میری خواہش ہے اور احباب اس کو یا درکھیں کہ جماعت احمدیہ نے اس خواہش کو پورا کرنا ہے۔دنیا میں سب سے بڑا براڈ کاسٹنگ سٹیشن گندے گانے گا کر اخلاق کو خراب کرتا ہے یا لغو باتیں بیان کر کے انسان کے وقت کو ضائع کرتا ہے یا اشتہارات وغیرہ کیلئے وقف ہوتا ہے یا غلط قسم کی فلسفیانہ دلیلیں اپنے حق میں اور مخالفوں کے خلاف دیتا ہے اس قسم کی باتیں ہمارے ریڈیوسٹیشن سے نشر نہیں ہوں گی۔میں مانتا ہوں کہ آجکل کے ریڈیو سٹیشنوں سے بعض اچھی باتیں بھی نشر ہوتی ہیں آنکھیں بند کر کے تنقید بھی نہیں کرنی چاہیے اور