تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 57
تاریخ احمدیت۔جلد 28 57 سال 1972ء ان کی ضرورت نہیں۔ہم اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا جانتے ہیں اور یہ جماعت کا کیریکٹر ہے اس میں کمزوری نہیں پیدا ہونی چاہیے۔ہماری کوشش ہے کہ ربوہ کی گلیاں صاف اور ستھری ہوں۔خالی میدانوں کو صحیح مصرف میں لایا جائے اور ربوہ کو ایک مثالی شہر بنایا جائے۔اس کے لئے ہم جماعت پر بار نہیں ڈالیں گے۔معمولی اخراجات جو ہوں گے وہ مقامی طور پر برداشت کئے جائیں گے۔چنانچہ فرمایا:۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا جانتے ہیں یہ ہمارا کریکٹر ہے۔جماعت احمدیہ کے کسی فرد میں کمزوری نہیں پیدا ہونی چاہیے۔میں نے کالج کی پرنسپلی کے زمانہ میں ایک امریکن کو کالج دکھا یا تھا اور پھر میں نے کہا میرے ساتھ جانے میں آخر کوئی حکمت ہے ورنہ میں اپنے کسی ساتھی سے کہتا وہ آپ کو کالج دکھا دیتا۔کیا حکمت ہے؟ وہ بڑا پریشان ہوا۔میں نے کہا حکمت یہ ہے کہ میں تم پر یہ امر واضح کرنا چاہتا تھا کہ ہم وہ قوم ہیں جسے امریکن امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ہم خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا جانتے ہیں۔اس لئے ربوہ دوسروں کیلئے ایسا نمونہ ہونا چاہیے اور باہر والے احمدی بھی انشاء اللہ دوسروں کیلئے نمونہ بنیں گے۔پس دوست اپنے شہروں اور دیہاتوں کی گلیوں کی صفائی کیا کریں خود احمدی دوست اور بچے گندے نظر نہ آئیں۔آج ہی کوشش شروع کر دیں اور نتیجہ تو ممکن ہے سال کے بعد نکلے۔لیکن کوشش جس حد تک ممکن ہے آج ہی سے شروع کر دو۔پھر کسی معین شکل میں بھی سیکیم جاری کر دیں گئے۔46 خلافت جو بلی علم انعامی سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے مجلس مشاورت ۱۹۷۲ء کے دوسرے روز مورخہ یکم اپر یل پہلے اجلاس سے قبل اے۔۱۹۷۰ء میں مجالس خدام الاحمدیہ میں کارکر دگی اور مستعدی کے لحاظ سے اول آنے والی مجلس خدام الاحمدیہ لائل پور شہر ( فیصل آباد ) کو از راہ شفقت اپنے دست مبارک سے خلافت جو بلی علم انعامی عطا فرمایا اور مجلس ڈرگ روڈ کراچی اور مجلس کنری سندھ کو علی الترتیب دوم وسوم قرار دیئے جانے کی بناء پر سندات خوشنودی عطا فرما ئیں۔47