تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 55 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 55

تاریخ احمدیت۔جلد 28 55 سال 1972ء رہیں گے اور ہم اس دن انتہائی طور پر خوش ہوں گے جس دن ہم یہ مشاہدہ کر رہے ہوں گے کہ تم ہماری راہوں میں کانٹے نہیں بچھا رہے بلکہ گلاب کے پھول بچھا رہے ہو اور انشاء اللہ وہ دن آئے گا۔آج نہیں تو کل آئے گا۔اس سال کے بعد نہیں تو ۷۵ سال بعد آئے گا مگر وہ دن ضرور آئے گا۔خواہ دنیا کی ساری طاقتیں اکٹھی ہو جائیں اور زور لگا کر دیکھ لیں وہ اس چیز کو روک نہیں سکتیں۔انشاء اللہ۔اس واسطے آپ گھبرائیں نہیں۔فرضی تکلیفیں ہیں۔ایک شخص بیمار ہو جاتا ہے اس نے حج کا ٹکٹ لیا ہوگا مگر حج نہیں کرسکتا۔ایک شخص جو کہیں کام کر رہا ہوتا ہے عین وقت پر اسے کہہ دیا جاتا ہے کہ ضروری کام آ گیا اس لئے تم نہ جاؤ۔یا بعض دفعہ مخالف کھڑا ہو جاتا ہے وہ روک بن جاتا ہے یا بعض دفعہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو بھیج دیتا ہے۔میں نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایک چھوٹا سا نوٹ تیار کروایا ہے میں ابھی اس سلسلہ میں اور معلومات اکٹھی کروا رہا ہوں کہ پچھلے چودہ سوسال میں کتنی بار کن کن موقعوں پر کس کس جگہ کس کس وجہ سے حج سے روکا گیا۔یہ آج کی تو بات نہیں یہ تو پرانا قصہ ہے۔مثلاً ایک علاقے میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی تو اس علاقہ کے لوگوں کے لئے حج پر جانا روک دیا گیا۔یا خود سعودی عرب میں کوئی وبا پھیلی تو ج رک گیا۔یا کسی بادشاہ نے اپنے مخالفوں کو حج نہیں کرنے دیا۔یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے متعلق تو میں نے پہلے اشارہ کر دیا ہے۔پس حج تو رکتے آئے ہیں اور حج کے رکنے کے نتیجہ میں کسی چیز کا غلط ہونا ثابت نہیں ہوتا اور نہ یہ امر احمدیت کے کفر ہونے پر دلیل ہے البتہ مخالفین کی نالائقیوں پر ضرور دلیل بن جائے گا کہ تم نے اس خانہ خدا کا دروازہ بند کیا جس کا دروازہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا (الجن : ۱۹) کے اعلان کے ساتھ کھولا تھا۔تم خدا اور خدا کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جواب دہ ہو گے۔لیکن ہم چونکہ نیک نیت ہونے کے باوجود رو کے جائیں گے اس لئے ہم کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں گے کہ ہم نے حج کیوں نہیں کیا۔ہم اس صورت میں حج کئے بغیر حج کا ثواب حاصل کریں گئے۔44