تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 54 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 54

تاریخ احمدیت۔جلد 28 54 سال 1972ء د, حج پر اگر ! اگر ! اگر ! پابندی لگ جائے کہ احمدی حج نہیں کر سکتے تو حج کے ثواب کے حصول کے مواقع بڑھ جاتے ہیں کم نہیں ہوتے۔کیونکہ اگر دس ہزار لوگوں کے سینوں میں یہ خواہش پیدا ہوگی کہ اپنی محبت اور عشق کا اظہار خانہ کعبہ میں جا کر مستانہ وار چکر لگا کر اور حجر اسود کو بوسہ دے کر کریں اور دنیا ان کے راستے میں روک ہو تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کے راستے میں یہ دنیا روک نہیں بن سکتی اور نہ بنے گی۔باقی رہا یہ کہ حج پر جانے پر احمد یوں پر پابندی لگائی گئی ہے یہ بات غلط ہے۔اس لئے کہ مثلاً غنانا کے احمدیوں کو اس دفعہ نہیں جانے دیا۔میں نہیں سمجھتا کہ سب کو روکا گیا ہے یا کچھ رک گئے ہوں لیکن بہر حال وہاں یہ چیز نمایاں ہوگئی۔نائیجیریا سے بڑی کثرت سے احمدی حج پر گئے ، امریکہ سے گئے ، یورپ سے گئے ، انڈونیشیا سے گئے ، نبی آئی لینڈ سے گئے ، پاکستان سے گئے۔حالانکہ اصل فتنہ وفساد کے مرکز یہیں ہیں مگر وہ بھی ہمارے راستے میں روک نہیں بن سکے۔اس طرح آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔ایک دفعہ ایک دوست سعودی عرب سے آئے کہ میں وہاں کام کرتا ہوں۔میں نے کہا کیا کام کرتے ہو۔کہنے لگا وائرنگ کا کام کرتا ہوں۔میں نے کہا آجکل کہاں کام کر رہے ہو۔کہنے لگا کہ خانہ کعبہ کے اندر۔میں ہنس پڑا۔میں نے دل میں کہا کہ مخالفین ہمارا کون کونسا راستہ روکیں گے۔ہم تو خانہ کعبہ میں بھی موجود ہیں۔خانہ کعبہ ہمارا ہے۔دوست یہ بات یادرکھیں کہ بیت اللہ ہمارا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حج سے روکا گیا تھا۔ہمیں بھی حج سے روکا جا رہا ہے۔پس جو دلیل تمہارے حق میں جاتی ہے اس سے تم کیوں گھبراتے ہو۔اس لئے بیت اللہ تو ہمارا ہے ہمارے پاس آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بشارتیں بھی ملی ہیں اور اللہ تعالیٰ کو اپنے وعدوں کا پاس بھی ہے لیکن دنیا کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ہمیں خدا تعالیٰ نے پیار اور محبت کرنے کا اور ہمدردی کرنے کا ایک اتنا تیز ہتھیار دیا ہے کہ دنیا کے سخت سے سخت لو ہے اور اس سے بنی ہوئی چیزوں کو بھی یہ ہتھیار کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور اس کی سختی کو دور کر دیتا ہے۔ہم پیار سے تمہارے دلوں کو جیت کر