تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 53
تاریخ احمدیت۔جلد 28 53 سال 1972ء ن کیلئے مشکل تھا اب زیادہ آسان ہو گیا ہے وہ ہم سے بڑے قریب آگئے ہیں۔پس تبلیغ کی شکل بدل گئی ہے اس لئے مناظرے تو اب نہیں ہوں گے کیونکہ یہ ذریعہ بے اثر ہو گیا ہے۔اگر ملکی حالات اجازت دیں تب بھی مناظرہ کا ہتھیار استعمال نہیں کیا جائے گا۔اس کی نسبت دوسرے ہتھیار زیادہ کارگر ہیں۔بہت زیادہ کارگر ہیں۔42 نیز فرمایا:۔میں افریقہ کے دورے پر تھا ایک ملک میں شام کے سفیر نے کہا کہ میں آپ سے علیحدہ ملنا چاہتا ہوں۔خیر وہ اکیلے ملے کچھ اپنی مشکلات تھیں اس نے کہا میں دہر یہ ہو گیا تھا چھ سال نوکری چھوڑی پھر میں نے نئے سرے سے سوچا، قرآن کریم کو پڑھا۔ویسے تو اس نے ارتداد کا اعلان نہیں کیا تھا مگر کہنے لگا ذہنی طور پر میں دوبارہ مسلمان ہوا ہوں۔تاہم کچھ خیالات اس وقت بھی صحیح نہیں تھے۔بعض باتیں پوچھ رہے تھے پھر آرام سے مجھے کہنے لگے کہ ہمارے ہاں بڑے زور سے پراپیگنڈا یا گیا ہے کہ آپ لوگ عیسائیوں کے ایجنٹ ہیں۔میں نے کہا اچھا تمہارے تک بھی یہ پراپیگنڈا پہنچ گیا۔میں نے کہا ٹھہرو۔میں اس کا تمہیں جواب دیتا ہوں۔میری عادت ہے کہ میں سفر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام ضرور ساتھ رکھتا ہوں کیونکہ ساری کتب تو سفر میں آدمی لے جانہیں سکتا۔فارسی ، عربی ، اردو پر مشتمل آپ کے منظوم کلام میں قریباً سارے مسائل مختصراً،خلاصہ بڑے اچھے پیرا یہ میں آگئے ہیں۔میں عربی کا کلام لے آیا اور میں نے کہا میں تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ میں کشکول میں مانگی ہوئی گندم اور دودھ وغیرہ کے خلاف بڑی سختی کے ساتھ لکھا ہے۔میں نے وہ حصہ نکال کر اس کے پندرہ بیس کے قریب شعر سنائے۔میں نے کہا جس شخص نے اس زمانہ میں یہ کہا ہو اس زمانہ میں اس کو کوئی عقلمند آدمی انگریز کا ایجنٹ کہہ سکتا ہے؟ کہنے لگے نہیں۔پھر خود ہی کہنے لگے۔ٹھیک ہے مسئلہ صاف ہو گیا ہے“۔13 اس دوران حضور نے یہ بھی وضاحت فرمائی:۔43