تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 52
تاریخ احمدیت۔جلد 28 52 سال 1972ء حفاظت کے لئے کر رہے ہیں۔اس ساری بزدل دنیا میں شجاعت کا ایک ہی جزیرہ ہے جس کے باسی سوائے خدا کے اور کسی سے نہیں ڈرتے اور وہ جماعت احمد یہ ہے اس واسطے اس بات کی بھی نگرانی کیا کریں کہ کوئی دھبہ نہ پڑ جائے۔انشاء اللہ اس میں Clash تو نہیں ہو گی۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا ہم امید رکھتے ہیں۔ہمارے کریکٹر پر یہ معمولی سا دھبہ بھی نہیں پڑنا چاہیے اور نہ کوئی تعصب پیدا ہونا چاہیے۔ہم نے تو بچپن میں ابھی پوری طرح ہوش بھی نہیں آئی تھی تو یہی تعلیم پائی تھی کہ دشمن سے بھی تعصب کے ساتھ بات نہیں کرنی۔وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا ( المائدہ :9 ) اس کا مطلب یہ ہے کہ خواہ دنیا تم پر ظلم کرتی رہے تم نے عدل کو نہیں چھوڑ نا۔11 41۔ہے۔شوری کے دوران ایک اور موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا:۔ایک دفعہ حکومت کا ایک نمائندہ آ گیا کہ احمدیوں کی تعداد کتنی۔نظارت امور عامہ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا جواب دیں۔میں نے کہا ان سے پوچھو کس تعریف کے ماتحت احمدیوں کی تعداد ما نگتے ہیں۔کیا وہ جو سو فیصدی احمدی ہیں یا وہ جو اسی فیصدی احمدی ہیں یا وہ جو پچاس فیصدی احمدی ہیں یا وہ جو چالیس فیصدی احمدی ہیں یا وہ بیس فیصدی احمدی ہیں وغیرہ۔بہر حال تعداد میں فرق ہے کیونکہ ہر وہ غیر از جماعت دوست جو اس وقت عملاً وفات مسیح" کا قائل ہو چکا ہے وہ گویا اس حد تک احمدی ہو چکا ہے۔ہم نے اس کا عقیدہ کسی حد تک بدل دیا ہے اور میرے خیال میں ہم نے نوے فیصد مسلمانوں کا حیات مسیح کا عقیدہ بدل دیا ہے۔جو سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اب حیات مسیح کے قائل نہیں رہے ان کا خیال بدل چکا ہے۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ کا اثر ہوا اور ہورہا ہے۔یہ مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ پہلے ہمیں جو چیز پتھر محسوس ہوتی تھی اب اس میں وہ سختی نہیں رہی کو مجموعی طور پر مخالفت تو اب بھی ہے لیکن اس کا اثر نہیں رہا۔میں جب سختی نہیں رہی کہتا ہوں تو میرا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان کا ہم سے پیار بڑھ گیا ہے۔شاید ہم سے نفرت ایک حصہ میں بڑھ گئی ہو لیکن نفرت کو دور کرنے کے لئے سختی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سختی اور نرمی کے الفاظ میں قبول اثر کے لحاظ سے کہہ رہا ہوں۔پہلے اثر قبول کرنا