تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 42
تاریخ احمدیت۔جلد 28 42 سال 1972ء بڑھ کر حضور کا خیر مقدم کیا اور حضور کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے۔حضور نے سب سے پہلے سنگ مرمر کی اس تختی کی نقاب کشائی فرمائی جو اس بلاک میں نصب تھی اور جس میں حسب ذیل الفاظ میں تاریخ سنگ بنیاد اور تاریخ افتتاح درج تھی۔" بسم الله الرحمن الرحيم تاریخ تنصیب سنگ بنیاد نحمده و نصلی علی رسوله الکریم تاریخ افتتاح ۸ امان ۱۳۴۹ هش/ ۸ مارچ ۱۹۷۰ء ۲۷ امان ۱۳۵۱ هش/ ۲۷ مارچ ۱۹۷۲ء سائنس بلاک (جامعہ نصرت ) تنصیب و سنگ بنیا د وافتتاح از دست مبارک حضرت خلیفہ المسیح الثالث حافظ مرزا ناصر احمد صاحب 13 33 پھر حضور نے تمام کمروں کا معاینہ فرمانے کے بعد خوشنودی کا اظہار فرمایا اور ضروری ہدایات سے نوازا۔بعد ازاں حضور خوبصورت قناتوں اور شامیانوں سے مزین اس پنڈال میں تشریف لے گئے جہاں طالبات اور دیگر مستورات کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔تلاوت اور نظم کے بعد سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے حضور کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا جس میں یہ بتایا گیا کہ کس طرح حضرت مصلح موعود کی خصوصی توجہ سے جون ۱۹۵۱ء میں جامعہ نصرت کا قیام عمل میں آیا اور مرکز سلسلہ میں بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہوا اور پھر یہ ادارہ بتدریج ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا سپاسنامہ کا متن رساله مصباح اگست ۱۹۷۲ء صفحه ۱۸-۱۹ پر شائع ہوا)۔سپاسنامہ کے بعد حضور نے بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔”ہم جو اپنے طلباء اور طالبات کے لئے سائنسی علوم حاصل کرنے کا انتظام کرتے ہیں تو اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ ہمارے بچے ایسے رنگ میں تسخیر کائنات میں حصہ لیں اور دنیا کے تمام علوم کو حاصل کریں کہ وہ اپنے ایمان وعرفان میں بڑھتے چلے جائیں۔اسلام علوم کو سیکھنے پر بڑا زور دیتا ہے وہ ہر مسلمان کا یہ فرض قرار دیتا ہے کہ وہ علم حاصل کرے مگر یہ علم وہی ہونا چاہیے جس سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور دنیا میں امن و سکینت کی فضا پیدا ہو۔وہ علم نہیں ہونا چاہیے جسے آج دنیا