تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 35 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 35

تاریخ احمدیت۔جلد 28 35 سال 1972ء نہ کوئی انسان مجھے خلیفہ بنا سکتا ہے میں تو انجمنوں کے خلیفہ بنانے پر تھوکتا بھی نہیں ہوں۔تو کیا انہوں نے اپنے کسی تکبر اور غرور کے نتیجہ میں کہا تھا یا خدا نے انہیں فرمایا تھا کہ میں نے تمہیں خلیفہ بنایا ہے۔یقیناً خدا ہی نے حضرت خلیفہ اول کو یہ فرمایا تھا کہ میں نے تجھے خلیفہ بنایا ہے۔پھر خلافت ثانیہ آئی۔کیا حضرت مصلح موعود نے اپنی طرف سے یہ کہہ دیا تھا کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے درآنحالیکہ خدا نے آپ کو یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں نے تجھے خلیفہ بنایا ہے وہ اتنا محتاط انسان کہ جس نے امت محمدیہ یعنی امت محمدیہ کے علماء اور سمجھدارلوگوں کے اصرار کے باوجود مصلح موعود ہونے کا دعویٰ اس وقت تک نہیں کیا کہ جب تک خدا نے اسے یہ نہیں بتادیا کہ میں نے تجھے مصلح موعود بنایا ہے اس کے متعلق تم یہ اعتراض کرتے ہو کہ اس نے اپنی طرف سے خلیفہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔اور جہاں تک میرا تعلق ہے، ایک اور تکلیف کے وقت میں نے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی اور میں اس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانالعنتیوں کا کام ہے اس مسجد میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس نے مجھے بڑے پیار سے فرمایا: - يَدَاوُدُ اِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ پس میں خلیفہ اس لئے نہیں ہوں کہ تم میں سے کسی گروہ نے مجھے منتخب کیا ہے۔میں خلیفہ اس لئے ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے منتخب کیا اور خلیفہ بنایا اور پیار کے ان الفاظ سے یاد فرمایا ہے۔غرض خلیفہ خدا ہی بنایا کرتا ہے۔انسانوں کا یہ کام ہی نہیں اور جن کو خدا خلیفہ بناتا ہے وہ انسانوں کے کام پر تھوکتے بھی نہیں اور نہ ان کی پرواہ کرتے ہیں۔خلافت حقہ اصولی طور پر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے پہچانی جاتی ہے۔اس کی آگے تفصیل ہے جو بہت لمبی ہے جس میں اس وقت میں نہیں جاسکتا۔مراد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ خودا اپنی حکمت کا ملہ سے جس کا ہمیں پتہ نہیں ہوتا ، خود مجھے بھی پتہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت تھی لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ اس نے مجھے خلیفہ بنایا اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے جس کو اس وقت خلیفہ بنایا ہے، اس سے وہ پیار بھی کرتا ہے اور اس کی تائید بھی کرتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی نصرت بتا رہی ہوتی ہے کہ یہ خلافت حقہ ہے۔مگر