تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 436
تاریخ احمدیت۔جلد 28 436 سال 1972ء بھی چاہتی ہیں کہ اسلام پر تقریر سنیں چنانچہ باہمی مشورہ سے دو پہر کے بعد بھی تقریر کا پروگرام رکھا گیا۔تینوں جماعتیں ایک بڑے ہال میں جمع ہو گئیں۔خاکسار نے اسلام اور جماعت احمدیہ پر تقریر کی۔اس موقع پر سکول کے ڈائریکٹر صاحب بھی موجود رہے اور بعد میں سوالات میں بھی حصہ 66 لیا۔تمام سوالات کا مکمل جواب دیا گیا۔128 عبد الحکیم اکمل صاحب مزید فرماتے ہیں:۔ہالینڈ میں دوسری تنظیموں اور ادارہ جات کی طرف سے ان کے اجتماعات میں شمولیت کی دعوت ملنے پر وہاں حاضر ہو کر نئے لوگوں سے تعارف حاصل کیا جاتا ہے۔چنانچہ اس عرصہ میں حسب ذیل پروگراموں میں شامل ہونے کا موقع ملا۔جناب کو نسلر صاحب کویت کی طرف سے ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا جس میں خاکسار کو بھی مدعوکیا گیا۔چنانچہ خاکسار نے حاضر ہو کر بہت سے ملکوں کے سفراء سے تعارف حاصل کیا۔کونسلر صاحب نے اپنے خاص مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے امام مسجد ہیگ کو بھی خوش آمدید کہا اس طرح حاضرین سے تعارف ہونے میں آسانی ہوئی جو خبر اخبارات میں شائع ہوئی، اس میں امام مسجد ہیگ کا بھی ذکر تھا۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو الوداع کہتے ہوئے سفارتخانہ پاکستان نے ایک دعوت کا اہتمام کیا۔اس میں خاکسار کو بھی مدعو کیا گیا چنانچہ خاکسار نے حاضر ہو کر بہت سے چیدہ چیدہ احباب سے ملاقات کرنے کے علاوہ ہالینڈ کے وزیر اعظم سے بھی تعارف حاصل کیا۔مشن میں ہفتہ وار مجالس با قاعدگی سے ہوتی رہیں جہاں ممبران جماعت کے علاوہ بھی بعض دوست شرکت کرتے رہے۔نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد خاکسار قرآن کریم کا درس دیتا رہا۔احباب جماعت جو حاضر ہو سکتے ہیں ہفتہ کے روز مسجد میں آتے رہے اور بہت سے کاموں میں ہاتھ بٹاتے رہے۔ان ہفتہ وار مجالس میں محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بالقا بہ بھی بعض اوقات تشریف لا کر اپنے ایمان افروز اور قیمتی خیالات سے ہمیں مستفید فرماتے رہے۔چنانچہ ایک مجلس میں آپ نے اپنا ایک مضمون پڑھ کر سنایا اور دوسری مجلس میں جبکہ آپ پاکستان سے ہو کر آئے تھے حاضرین کو حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کی خیر و عافیت اور دینی مصروفیات سے مطلع فرمایا نیز جلسہ سالانہ کے مختصر حالات بیان فرمائے۔۔۔۔خاکسار نے جناب سفیر صاحب پاکستان سے وقت حاصل کر کے ان سے سفارتخانہ میں ملاقات کی اور تعارف حاصل کیا۔نیز ان کی خدمت میں دیباچہ قرآن کریم انگریزی پیش کیا جو انہوں نے بڑے شوق سے قبول فرمایا اور مطالعہ کرنے کا وعدہ کیا۔