تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 434 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 434

تاریخ احمدیت۔جلد 28 434 سال 1972ء گاڑی رات کے آٹھ بجے جلسہ گاہ میں پہنچا۔یہاں ایک گھنٹہ تک پیغام حق پہنچایا گیا۔بعد ازاں ڈیڑھ گھنٹہ سوالات اور جوابات کے لئے وقف تھا۔جملہ سوالات کا بفضلہ تعالیٰ تسلی بخش جواب دیا گیا۔پادری صاحب نے بھی سوالات کئے ان کا بھی جواب دیا گیا۔محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس حلقہ میں یہ تقریر بہت پسند کی گئی اور بعد میں اس سوسائٹی نے اپنے دوسرے حلقہ جات میں بھی یہ تقاریر کروائیں۔۲۔دوسری تقریر اس علاقہ کے شہر ASSEN کے ایک کیتھولک سکول میں ہوئی۔سکول پہنچنے کے بعد ایک کلاس میں تقریر کی۔پون گھنٹہ تقریر کے بعد سوالات کا موقع دیا گیا اور جملہ سوالات کا جواب دیا گیا۔سکول کے دو اساتذہ کے علاوہ سکول کے ڈائریکٹر صاحب نے بھی تقریر سنی اور سوالات کئے اور دلچسپی کا اظہار کیا۔تقریر کے بعد خاکسار کو سٹاف روم میں لے جایا گیا جہاں دوسرے اساتذہ سے تعارف حاصل کرنے کا موقعہ ملا۔خاکسار نے دینیات کے ماسٹر صاحب اور ڈائریکٹر صاحب سکول کو بعض کتب پیش کیں۔۳۔تیسری تقریر ایمسٹرڈیم شہر کے ایک مسلم خاندان کے گھر پر ہوئی جہاں انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو اکٹھا کیا ہوا تھا۔تقریر کا عنوان تھا ” بعث بعد الموت۔خاکسار نے ایک مختصر سی تقریر کی اور قرآن کریم اور احادیث کے ذریعہ اس موضوع پر روشنی ڈالی اور بعد میں سوالات کا جواب دیا۔اس موقع پر خوش ہو کر بعض غیر ممبران نے مسجد کے لئے چندہ بھی دیا۔۴۔شمالی ہالینڈ کے شہر آمر سفورٹ (Amersfoort) میں کام کرنے والے مراکش کے مسلمانوں کی ایک تنظیم نے کرسمس کے موقع پر خاکسار کو اپنے ایک اجتماع میں مدعو کیا تا کہ انہیں کرسمس اور اسلام کے موضوع پر کچھ بتایا جائے۔چنانچہ خاکسار نے تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر عربی زبان میں اپنی پہلے سے تیار کی ہوئی تقریر کی۔۵۔شمالی ہالینڈ کے شہر آمر سفورٹ میں کیتھولک انسٹی ٹیوٹ کے سٹاف نے خاکسار کو اسلامی عبادات اور اس کی حکمت پر تقریر کے لئے بلایا۔خاکسار نے حاضر ہو کر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں اس موضوع پر تقریر کی جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔پون گھنٹہ تقریر کے بعد سوالات کا وقفہ تھا جو ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔بفضلہ تعالیٰ تمام سوالات کا تسلی بخش جواب دیا گیا۔۔اس موقع پر بہت سے ڈچ باشندے بھی جمع ہو گئے اور انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار