تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 417
تاریخ احمدیت۔جلد 28 417 سال 1972ء منعقد ہوا جس سے قریشی محمد اسلم صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ ماریشس نے پہلے اردو اور پھر انگریزی میں خطاب فرمایا۔دوسرے مقررین کے نام یہ ہیں۔منصور امیرالدین صاحب ،سعید گلزاری صاحب ، مولوی صدیق احمد صاحب منور، ابوبکر ایوب صاحب مقامی مبلغ ، یداللہ بھٹوصاحب نے اپنے دورہ قادیان ور بوہ کے دلچسپ اور ایمان افروز حالات سنائے اور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی زیارت سے مشرف ہونے کا ذکر بڑے جذباتی انداز میں فرمایا۔ان کی تقریر سامعین کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث ہوئی۔اجتماع میں تلاوت نظم اور تقاریر اور کھیلوں کے مقابلے ہوئے جن میں روز ہل کی مجلس مجموعی طور پر اول رہی۔آخر میں تقسیم انعامات اور تلقین عمل کے پروگرام ہوئے۔قریشی محمد اسلم صاحب، رشید حسین صاحب پر نسل تعلیم الاسلام کالج اور حنیف جواہر صاحب امیر جماعت احمد یہ ماریشس نے انعامات تقسیم کئے۔اس اجتماع کے اعلان اور پروگرام کی اشاعت ملک کے دو اخبار Le Mauricien اور Advance میں ہوئی۔مقام اجتماع کو نہایت سلیقہ سے سجایا گیا اور اس میں قرآن عظیم کی آیات اور الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مشتمل قطعات آویزاں کئے تھے۔سٹیج کے عقب میں جزیرہ ماریشس اور مجلس خدام الاحمدیہ کے جھنڈے نصب تھے۔104 تریولے کی مسجد احمد یہ عمر کا سنگ بنیاد اگر چہ مولانا محمد اسماعیل صاحب منیر سابق انچارج مشن کے ہاتھوں رکھا جا چکا تھا مگر اس کی تعمیر قریشی محمد اسلم صاحب کے عہد میں ان کی ذاتی نگرانی میں ہوئی اور اس سال ۳۰ دسمبر ۱۹۷۲ء کو آپ ہی نے اس کا افتتاح کیا۔اس مبارک اور یادگار تقریب میں احمدیوں کے علاوہ پاکستان اور فرانس کے سفارتخانوں کے سیکرٹری صاحبان، متعدد سرکاری افسران ، ہندو اور عیسائی مذہبی زعماء اور غیر از جماعت معززین اور اخبار کے نمائندگان نے بھی شرکت فرمائی اور اگلے روز اخبار Advance نے نہایت عمدہ تعارفی نوٹ شائع کیا۔قریشی محمد اسلم صاحب مبلغ انچارج کے ایک مفصل مضمون سے اس خانہ خدا کی تعمیر اور افتتاح کی ایمان افروز تفصیلات ملتی ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ کی فراہمی کا ایک جامع منصوبہ بنایا گیا جو یہ تھا کہ ہر صاحب استطاعت احمدی دوست تعمیر مسجد تریولے کے فنڈ میں کم از کم پچاس روپے چندہ دیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ