تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 32
تاریخ احمدیت۔جلد 28 32 سال 1972ء اٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں تم خلافت کا نام نہ لو۔مجھے خدا نے خلیفہ بنادیا اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔اگر تم زیادہ زور دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔23 حضرت خلیفہ ثانی کے بھی بہت سے حوالے ہیں کیونکہ آپ ہی کے زمانہ خلافت میں غیر مبائعین نے زیادہ تر خلافت کی بحثیں چھیڑی تھیں۔میں آپ کا ایک ہی حوالہ لیتا ہوں اور اس ضمن میں الفضل کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ یہ حوالے اخبار میں بار بار چھاپتے رہیں تا کہ نئی نسل اور نئے آنے والوں کو یہ پتہ لگے کہ اس سلسلہ میں کیا جھگڑے ہوئے اور کیا فیصلے ہوئے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔اسلامی اصول کے مطابق یہ صورت ہے کہ جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے اور آخری اتھارٹی جسے خدا نے مقرر کیا اور جس کی آواز آخری آواز ہے وہ خلیفہ کی آواز ہے۔کسی انجمن، کسی شوری یا کسی مجلس کی نہیں ہے یہی وہ بات ہے جس پر جماعت کے دو ٹکڑے ہو گئے۔خلیفہ کا انتخاب ظاہری لحاظ سے بیشک تمہارے ہاتھوں میں ہے۔تم اس کے متعلق دیکھ سکتے اور غور کر سکتے ہو مگر باطنی طور پر خدا کے اختیار میں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے خلیفہ ہم قرار دیتے ہیں اور جب تک تم لوگ اپنی اصلاح کی فکر رکھو گے۔اُن قواعد اور اصول کو نہ بھولو گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ضروری ہیں۔تم میں خدا خلیفہ مقرر کرتا رہے گا اور اسے وہ عصمت حاصل رہے گی جو اس کام کے لئے ضروری ہے۔24 خالی اتنا نہیں کہ خدا خلیفہ بناتا ہے بلکہ ساتھ یہ بھی ہے کہ اگر خدا خلیفہ بناتا ہے تو یہ بات جو حضرت خلیفہ ثانی نے مختصراً کہی اور جس کی وضاحت حضرت خلیفہ