تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 31
تاریخ احمدیت۔جلد 28 31 سال 1972ء فضل اور اس کے رحم سے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور منافق کا یہ عقیدہ ہے یا کم از کم وہ اس عقیدہ کا اظہار یہی کرتا ہے کہ چونکہ انسانوں کے ہاتھ سے یہ فعل ہوتا ہے اس لئے خلیفہ خدا نہیں بناتا۔اس کی منشاء نہیں ہوتی چنانچہ حضرت مصلح موعود نے فرمایا ہے کہ کئی بیوقوف لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے اپنے بندوں کو کہا کہ تم جا کر اپنا انتخاب کر لو اور میں یہی سمجھوں گا کہ میں نے خلیفہ بنایا ہے۔یہ بات تو خدا تعالیٰ کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہے۔حضرت خلیفہ اول پر بھی یہی اعتراض کیا گیا تھا کہ آپ کو خدا نے خلیفہ نہیں بنایا۔اس سلسلہ میں آپ کے بہت سارے حوالے ہیں۔جن میں سے اس وقت میں چند ایک آپ کو سنا دیتا ہوں۔آپ نے ۱۹۱۲ ء میں فرمایا تھا:۔وو یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو۔یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہیے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے خلیفہ کرتا ہی کیا ہے؟ لڑکوں کو پڑھاتا ہے کوئی کہتا ہے کتابوں کا عشق ہے۔اسی میں مبتلا رہتا ہے ہزار نالائقیاں مجھ پر تھو پو۔مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔21 اب میں ( بھی یہ ) کہتا ہوں کہ مجھے بھی خدا نے خلیفہ بنایا ہے جو نالائقیاں تم مجھ پر تھوپنے کی کوشش کرو گے وہ تم دراصل مجھ پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات پر اعتراض کر رہے ہوگے پھر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا:۔اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں۔تم اُن سے بچو۔پھر سن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے ، نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا اور اس کے چھوڑنے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی رداء کو مجھ سے چھین لے۔22 پھر آپ فرماتے ہیں:۔خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں