تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 409
تاریخ احمدیت۔جلد 28 409 سال 1972ء ان کے بعد دیگر ۲۱ معززین نے لاگ بک پر دستخط کئے۔بعد ازاں مہمان خصوصی نے خاکسار، امیر صاحب، الحاج سنگھاٹے صاحب سابق گورنر جنرل، ڈاکٹر احتشام الحق صاحب اور محمود انجم صاحب، محترم عمر تال صاحب کے ہمراہ سکول کے زیر تعمیر حصہ کو دیکھا اور تشریف لے گئے۔افتتاح کے اختتام پر تمام مہمانوں کی مشروبات وغیرہ سے تواضع کی گئی۔99 افریقہ کے احمد یہ مشنوں کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالنے کے بعد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مولانا بشارت احمد صاحب بشیر کے ایک انٹرویو کے بعض اقتباسات سپر دقر طاس کر دیئے جائیں جو انہوں نے ۱۹۷۲ء کے آخر میں ابو طاہر فارانی صاحب ( ثاقب زیروی ) کو دیا اور جو صلیب و ہلال میں فیصلہ کن جنگ کے زیر عنوان ”لاہور کے سالنامہ ۱۹۷۲ء میں شائع ہوا۔ا۔اس وقت افریقہ میں ہلال و صلیب میں ایک فیصلہ کن جنگ جاری ہے۔عیسائیت کے منصوبوں کے مقابلہ میں مبشرین اسلام کی حیثیت وہی ہے جو دور اولیٰ میں بدری صحابہ کی تھی۔عیسائیت اقتدار اور دولت کے نشہ میں چور ہے اس کی وہاں کم و بیش ۳۰ تنظیمیں مصروف کار ہیں جن کے مراکز امریکہ، برطانیہ، ہالینڈ اور روم میں ہیں۔ان کے جابجا تعلیمی ادارے، خیراتی ادارے، شفاخانے اور چھاپے خانے قائم ہیں۔ان کے پاس ایک منظم اور تربیت یافتہ عملہ ہے مثلاً کلیسا کی ایک شاخ ”سوڈان انٹیرئیر مشن کہلاتی ہے اس کا اپنا ہوائی محکمہ ہے تربیت یافتہ ہوا باز ہیں جو بوقت ضرورت پادریوں کی عبائیں بھی پہن لیتے ہیں اس مشن کا اپنا ایک ریڈیو ریکارڈنگ سٹوڈیو ہے جس میں عیسائیت کی تبلیغ پر مشتمل ریکارڈ ہاؤسا، ابوا اور یورو با زبانوں میں تیار کئے جاتے ہیں اور انہیں اریٹیریا کے صدر مقام منرو و یا سے نشر کیا جاتا ہے۔اسی طرح لوتھرن مشن کا ایک اپنا سٹوڈیو ہے جو کر چیکن ریڈیوسٹوڈیو کہلاتا ہے۔ایک اور مور یا بشارة “ نامی ہے جس میں ہاؤسا اور فلانی زبان کے ریکارڈ تیار کئے جاتے ہیں اور افریقہ کے کونے کونے میں سنے جاتے ہیں۔مدارس اور شفا خانوں کا جال اس کے علاوہ ہے جن میں اُنہی طلباء اور مریضوں کو داخل کیا جاتا ہے جو آئندہ کلیسا کے کام آ سکیں۔ایسے طلباء سے فیس بھی نہیں لی جاتی۔ان تبلیغی تنظیموں کے پادری افریقن عوام کے افلاس اور مفلوک الحالی کو خوب اکسپلائٹ کرتے ہیں۔بین الاقوامی تنظیموں کی تمام امداد عیسائیت ہی کے پر چار پر صرف ہوتی ہے اور صرف عیسائیوں ہی کو دی جاتی ہے جس سے مرعوب ہو کر بعض اوقات مفلوک الحال مسلمان بھی صلیب پہن کر دریوزہ گری پر مجبور ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد آیا کہ ایک اچھے خاصے