تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 393 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 393

تاریخ احمدیت۔جلد 28 393 سال 1972ء کامیاب اور سب کے لئے بابرکت کرے اور اس مسجد کو اس علاقہ میں اسلام کی اشاعت کا موجب بنائے۔آپ سب کی کوششوں کو خاص قبولیت اور کامیابی سے نوازے اور اس راہ میں زیادہ سے زیادہ قربانی کرنے کی توفیق دے۔“ مولوی محمد صدیق صاحب نے یہ ایمان افروز پیغام سنانے کے بعد قرآن کریم کی انہی آیات کی تلاوت کی جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ربوہ میں مسجد اقصیٰ کے افتتاح کے وقت تلاوت فرمائی تھیں۔ازاں بعد ان کا ترجمہ اور حسب موقعہ تفسیر بیان کی اور پھر سب حاضرین کے ساتھ اجتماعی دعا کرائی۔جس کے بعد سب احباب نے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کئے اور باجماعت نماز ظہر پڑھی۔اس کے بعد سب حاضرین نے کھانا کھایا۔بعد ازاں مولوی محمد صدیق صاحب کی زیر صدارت افتتاح سے متعلق مسجد محمود میں ایک جلسہ عام ہوا۔محبوب یوسف خان صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمد یہ نفی نے جماعت کی طرف سے سب دور ونزدیک سے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور نئی تعمیر شدہ مسجد کے متعلق بعض معلومات بہم پہنچاتے ہوئے بتایا کہ باوجود ظاہری سامان نہ ہونے کے اور بعض بڑی بڑی ہستیوں اور جماعتوں کی طرف سے مخالفت ہونے کے باوجود جماعت احمد یہ مارو کا یہ شاندار عظیم عمارت مکمل کر لینا بلا شک خدا کی قدرت کا زندہ نشان اور احمدیت کے حق میں اس کی تائید و نصرت کی ناقابل انکار دلیل ہے۔جنرل سیکرٹری صاحب کی تقریر کے بعد جماعت احمدیہ مارو کے سیکرٹری اعظم خلیل صاحب نے تفصیل سے مسجد محمود کی بنیا د ر کھنے سے اس کی تعمیل تک کے سارے حالات کا جائزہ لیا اور سب مشکلات اور مخالفتوں کے طوفان اور مالی رکاوٹوں وغیرہ کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ غیب سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جلیل القدر صحابی چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو خانہ خدا کی بنیا د ر کھنے کے لئے یہاں لے آیا اور انہوں نے نجی کے بعض چوٹی کے لوگوں کے سامنے اس کی بنیاد رکھی اور خاص دعائیں کیں۔انہوں نے آخر میں نام بنام کئی ہندو اور غیر مسلم بھائیوں اور غیر از جماعت احباب اور بعض مخیر احمدی احباب کا تذکرہ کیا جنہوں نے محض خدا تعالیٰ کی خاطر اس مسجد کی تعمیر میں بذریعہ مال اور سامان مدد بہم پہنچائی اور ان سب کا شکریہ ادا کر کے ان کے لئے دعا کی درخواست کی۔اس سلسلہ میں خلیل صاحب نے جماعت احمد یہ ناندی کے سابق پریذیڈنٹ محمد جان خان صاحب مرحوم کا خاص طور پر ذکر فرمایا کہ وہ اس مسجد کی بنیاد سے لے کر اپنی وفات تک اپنے شہر ناندی سے