تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 391
تاریخ احمدیت۔جلد 28 391 سال 1972ء دے دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے غیب سے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ ہم اس ذمہ داری کو نبھا کر خدا کے اس گھر کی شاندار طور پر تکمیل کر سکے اور آج ہمارے دل اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر خوشی اور شکر یہ اور اس کی حمد وثنا کے جذبات سے لبریز ہیں۔اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے بدلہ اور شکریہ کا عملی طریق اب یہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک یہ عہد کرے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس گھر کو آبادرکھنا ہے۔ازاں بعد اجتماعی دعا کی گئی اور قرآنی مسنون دعاؤں کی تلاوت کرتے ہوئے مولا نا محمد صدیق صاحب نے مسجد کا افتتاح کیا۔مسجد میں داخل ہوتے ہوئے سب نے اونچی آواز سے مسجد میں داخل ہونے کی مسنون دعا پڑھی اور پھر تمام احمدی بھائیوں اور بہنوں نے علیحدہ علیحدہ دو دو رکعت نماز تحیة المسجد کے طور پر ادا کی۔پھر اذان دی گئی اور سب نے مل کر باجماعت ظہر کی نماز ادا کی۔اس کے بعد سب احمدی، غیر احمدی اور غیر مسلم تمام مہمانوں نے مل کر کھانا کھایا۔جس کا انتظام ناندی جماعت کی طرف سے نہایت منظم، عمدہ اور وسیع پیمانہ پر کیا گیا تھا۔افتتاحی تقریب کے بعد اسی روز قریباً اڑھائی بجے تبلیغی سالانہ کا نفرنس کا آغاز ہوا۔پہلے اجلاس میں مولانا غلام احمد صاحب فاضل بدو ملہوی نے امام آخر الزمان کے ظہور پر مدلل تقریر کی۔دوسرے اجلاس میں ماسٹر محمد حسین صاحب ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ لٹو کا اور مولوی محمد صدیق صاحب نے نئی زمین اور نیا آسمان کے موضوع پر خطاب فرمایا۔اگلے روز آخری اجلاس میں حاجی محمد حنیف صاحب امام الصلوۃ لٹو کا جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام يحى الدين ويقيم الشريعة ، 90 پر روشنی ڈالی۔ازاں بعد مولانا غلام احمد صاحب نے اسلامی پردہ کی اہمیت اور سود کی حرمت وغیرہ مسائل از روئے قرآن بیان فرمائے۔تقریروں کے بعد جماعتہائے احمد یہ نجی کے عہد یداران کا خاص مشاورتی اجلاس مولوی محمد صدیق صاحب کی زیر صدارت ہوا۔جنرل سیکرٹری بھائی محبوب یوسف محمد صاحب نے سال گذشتہ کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور تمام جماعتی کاموں کی تفصیل پیش کی۔ان کے بعد کمال الدین صاحب سیکرٹری مال نے سال بھر کی مالی رپورٹ پیش کی۔پھر جماعت ناندی کے عہدہ داران نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ کے اخراجات کے ضمن میں ابھی ایک ہزار ڈالر کے بل قابل ادا ہیں۔مسجد فنڈ ختم ہے۔مولوی محمد صدیق صاحب نے تمام حاضرین کو جس میں جماعت کے عام احباب بھی شامل کر لئے گئے اس قرض کی فوری ادائیگی کے لئے چندہ کی اپیل کی۔چنانچہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسی وقت نقدی اور وعدوں کی صورت میں کم و بیش ایک ہزار ڈالر مہیا ہو گیا۔فالحمد للہ