تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 30 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 30

تاریخ احمدیت۔جلد 28 30 سال 1972ء کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے اتنی بھاری ذمہ داری کے نیچے رکھے گا جو کچل دینے والی ہے۔لوگ اس کو مذاق سمجھتے ہیں مگر یہ اتنی بھاری ذمہ داری ہے کہ میں سمجھتا ہوں کوئی آدمی اپنے ہوش و حواس میں ایک لمحہ کے لئے بھی اس ذمہ داری کو اٹھانے کی خواہش نہیں کر سکتا۔کہتے ہیں کہ میں نے باہر جا کر اپنے حق میں پراپیگنڈہ کیا تھا کہ مجھے خلیفہ بنایا جائے۔اب اس وقت جو دوست یہاں بیٹھے ہوئے ہیں جن میں سے کچھ باہر سے بھی آئے ہوئے ہیں۔کوئی ہے جو کھڑے ہو کر قسم کھا کر یہ کہہ سکے کہ میں نے اسے یہ کہا ہو کہ مجھے خلیفہ بنانا؟ (اس پر سامعین کی طرف سے نہیں نہیں کی آواز میں بلند ہوئیں) میں نے بتایا ہے کہ میرے تو دماغ میں بھی یہ خیال نہیں آسکتا تھا۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا حضرت مصلح موعود کی وفات پر چوہدری انورحسین صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے کوئی ایسی بات کی کہ مجھے یہ خیال آیا کہ ان کے دماغ میں ہے کہ آج جماعت شاید خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے باہر کسی کو خلیفہ منتخب کرے۔تو یہ نہ ہو کہ خاندان کی وجہ سے کوئی ذراسی بھی بدمزگی پیدا ہو جائے۔اس لئے محتاط رہنا چاہیے۔میں نے سمجھا ٹھیک ہے انہیں یہ نیک نیتی سے خیال آیا ہے۔خیر جب انہوں نے مجھ سے یہ بات کی تو میں نے ایک رؤیا کی بناء پر ان سے کہا کہ میں تمہیں تسلی دلاتا ہوں اور یہ ذمہ داری لیتا ہوں کہ ہمارے خاندان کے کسی فرد کی وجہ سے بدمزگی پیدا نہیں ہوگی۔جماعت جس کو چاہے خلیفہ منتخب کرے۔ہم اس پر آمنا و صدقنا کہیں گے اور نیک نیتی سے اس کی اطاعت کریں گے۔کہتے ہیں کہ باہر کے ٹور کئے اور اپنا پراپیگنڈہ کیا اور انتخاب کے وقت بڑی بدانتظامی ہوئی اور زبردستی خلیفہ بن بیٹھا۔یہ باتیں میں بڑی دیر سے سن رہا ہوں اور سوائے اس کے کہ میں لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کہوں اور کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن جہاں تک عقیدہ کا سوال ہے، ہم اس عقیدہ پر قائم ہیں اور ہم سے مراد امت محمدیہ ہے جس میں پہلے بھی خلافت رہی۔اب بھی خلافت ہے اور رہے گی۔اللہ تعالیٰ کے