تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 388
تاریخ احمدیت۔جلد 28 388 سال 1972ء گیا۔مگر پھر بھی ریجن میں ہندو آفیسر اور مرکز میں کیتھولک افسر کے تعصب کی وجہ سے ہسپتال کئی ماہ بند رہا۔چنانچہ جماعت کا ایک وفد خاکسار کی سرکردگی میں وزیر صحت جو فوجی حکومت کی وجہ سے کمشنر برائے وزارت صحت کہلاتے تھے، ملنے کے لئے گیا۔یہ کمشنر ڈینٹل سرجن تھے اور کرنل کے عہدہ پر فائز تھے۔اس وفد میں خاکسار کے علاوہ مکرم الحاج ممتاز بیگ آرتھر صاحب صدر جماعت غانا، مکرم الحاج الحسن عطا صاحب ایم بی ای Member of the Distinguished Order of the) (British Empire ریجنل صدر جماعت اشانٹی ریجن، بریگیڈئر (ریٹائرڈ) مکرم ڈاکٹر غلام احمد صاحب ایم بی بی ایس ایف آرسی میڈیکل آفیسر احمد یہ ہسپتال کوکو فو انشانٹی ،مکرم ڈاکٹر سید غلام مجتبی شاہ صاحب ایم بی بی ایس میڈیکل آفیسر احمد یہ ہسپتال آسو کورے اشانٹی ،مکرم ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب ایم بی بی ایس میڈکل آفیسر احمد یہ ہسپتال اگو نہ سویڈ رو وسطی ریجن نیز جماعت کے مشیر قانون الحاج بشیر کوسوانتری بارایٹ لا ( جو ڈاکٹر نکروما کی حکومت میں اٹارنی جنرل اور وزیر انصاف بھی رہ چکے تھے ) شامل تھے۔ڈاکٹر غلام مجتبی شاہ صاحب بہت تجربہ کار تھے وہ پاکستان میں سندھ پراونس میڈیکل سنٹر کے ڈائریکٹر رہ چکے تھے۔غانین آرمی افسران بھی آرمی ہسپتال کی بجائے ڈاکٹر غلام مجتبی صاحب کے ہسپتال جا نا مناسب سمجھتے تھے۔اس طرح خدا کے فضل سے ڈاکٹر غلام مجتبی صاحب کا نا نا میں بھی بہت اثر و رسوخ تھا۔دوران گفتگو مکرم سید غلام مجتبی شاہ صاحب نے ایک بات کی وضاحت کرنی چاہی تو کمشنر صاحب جو موقع کی تلاش میں ہی تھے برافروختہ ہو گئے اور کہنے لگے کیا تم اپنے ملک (یعنی پاکستان میں اس طرح کسی وزیر سے مخاطب ہو سکتے ہو۔مکرم ڈاکٹر شاہ صاحب نے صاف کہا کہ ہاں میں اپنے ملک میں اس مہذب طریق سے وزراء کے ساتھ بات کرتا رہا ہوں۔ان کا اتنا کہنا تھا کہ کمشنر صاحب غصہ سے لال پیلے ہو گئے اور آپے سے باہر ہو کر جوش سے کہا:۔میں دیکھوں گا کہ تم اس ملک میں کس طرح رہ سکتے ہو۔یا میں اس کرسی ( وزارت صحت) پر رہوں گا اور تم اس ملک سے نکال دیئے جاؤ گے۔یا میں کرسی چھوڑ دوں گا اور تم اس ملک میں رہو گے۔چونکہ کمشنر صاحب غصہ میں انگریزی میں جلدی جلدی بول رہے تھے اس لئے الفاظ بہت ممکن ہے کچھ اور ہوں تا ہم مفہوم یہی تھا۔اس چیلنج کے ساتھ وہ میٹنگ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس طرح