تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 381
تاریخ احمدیت۔جلد 28 381 سال 1972ء ترجمہ کی اشاعت اب ان کا نیا پروگرام ہے تا کہ اس ملک کے باشندے قرآن مجید کو بہتر طریق پر پڑھ اور سمجھ سکیں۔آپ نے نائب صدر مملکت سے اپنی چند روز قبل کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشن کے کام پر پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔مولا نائٹس صاحب نے مزید فرمایا کہ ان کے مشن کا مقصد اس ملک میں اسلام کی اشاعت ہے چنانچہ قرآن مجید ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کر کے ملک کے ہر حصہ میں بھجوایا جائے گا۔اس سے لوگوں کو اپنے مذہب کے سمجھنے میں مدد ملے گی۔آپ نے تمام مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ اسلامی تعلیم رمضان کے بعد بھی اپناتے رہیں۔آپ نے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کے سیرالیون کے دورہ جس کا مقصد یہاں کے لوگوں کے متعلق معلومات حاصل کرنا اور سیرالیون میں اسلام کی ترقی کا جائزہ لینا تھا، کا بھی ذکر کیا۔آپ نے کہا کہ اس دورہ کے بعد جو پروگرام تعلیمی اور طبی ترقی کے لئے حکومت کو پیش کیا گیا تھا اس نے اب پھل لا نا شروع کر دیا ہے“۔حضور انور کی طرف سے اس اشاعت قرآن عظیم کے وسیع کام کو یہاں کے پڑھے لکھے اسلامی طبقہ میں بہت سراہا جا رہا ہے۔(۱) نائب صدر و وزیر اعظم صاحب نے اس پر جس خوشنودی کا اظہار کیا اس کا ذکر مذکورہ بالا ریڈیو سیرالیون کی خبر میں احباب نے پڑھ لیا ہوگا۔ان کے علاوہ اس سلسلہ میں بعض اور شخصیتوں کا یہاں ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔(۲) وائس پریذیڈنٹ اسلامک کونسل سیرالیون مکرم الحاج سیرے دوری ( Seray Wurie) نے امیر صاحب سے مشن ہاؤس میں اپنی ایک خصوصی ملاقات کے دوران اس خیال کا اظہار کیا کہ اشاعتِ قرآن عظیم کے سلسلہ میں اس قدر وسیع منصوبہ جماعت احمدیہ کا ایک نمایاں کارنامہ ہے۔(۳) اسلامک کونسل کی ایک میٹنگ کے دوران ایک عرب نے جب احمدیت پر اعتراض کیا تو سابق نائب وزیر اعظم آنریبل مصطفیٰ سنوسی نے اسے سختی کے ساتھ جواب دیا کہ تم محض جماعت احمدیہ پر اعتراض کرتے ہو یہ قرآن کریم جماعت احمدیہ کا ایک عظیم کارنامہ ہے جو اشاعت اسلام کے 66 لئے وہ سرانجام دے رہی ہے۔81