تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 29 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 29

تاریخ احمدیت۔جلد 28 حضور انور نے فرمایا: 29 29 ایک بات (اور وہ بھی پہلی بار نہیں کہی جارہی ) یہ ہے کہ خلیفہ خدانہیں بناتا انسان بناتا ہے۔یہی اعتراض حضرت خلیفہ اول پر کیا گیا۔یہی اعتراض حضرت خلیفہ ثانی پر کیا گیا اور آج یہی اعتراض مجھ پر کیا جارہا ہے۔حضرت خلیفہ اول کو انجمن کے چند آدمیوں نے خلیفہ منتخب کر دیا تھا پھر جماعت نے بھی آپ کی بیعت کر لی تھی۔حضرت خلیفہ ثانی کے متعلق زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جاسکتا ہے کہ جو دوست حضرت خلیفہ اول کی وفات پر قادیان میں موجود تھے، وہ اکٹھے ہوئے اور جس طرح ایک آندھی آتی ہے اور وہ چیزوں کو ایک طرف کونے میں اڑا کر لے جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے احمدیوں کے دلوں پر تصرف کیا اور وہ سب ( الا ماشاء اللہ جن کو ٹھوکر لگی ) ایک ہاتھ پر اکٹھے کر دیئے گئے۔پھر حضرت خلیفہ ثانی نے ۱۹۵۶ء میں انتخاب خلافت کی ایک کمیٹی بنائی اور ایک نظام قائم کر دیا۔چنانچہ جب خلافت ثالثہ کے انتخاب کا وقت آیا تو وہ جو ساری عمر کے مخالف تھے اور جماعت مبائعین جن پر اللہ تعالیٰ کی نصرتیں اور فضل نازل ہورہے تھے کو حسد، نفرت اور غصے کی نگاہ سے دیکھنے والے تھے ان کی زبان سے بھی یہ نکلا کہ کاش حضرت خلیفہ اول بھی ایسا انتظام کر جاتے تا کہ یہ فتنہ نہ پیدا ہوتا جو ۱۹۱۴ ء میں رونما ہوا۔(اس فتنہ سے ان کی کیا مراد ہے ) یہ تو وہ جانیں یا اللہ تعالیٰ جانے لیکن بہر حال وہ بھی اس انتخاب خلافت کے نظام کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔پس منافقین یہ کہتے ہیں کہ چونکہ خلافت کمیٹی جو ۱۹۵۶ء میں حضرت مصلح موعود نے قائم کی تھی اس نے خلیفہ ثالث کو مقرر کیا ہے اس لئے یہ خدا کا انتخاب کیسے ہو گیا ؟ یہ تو انسانوں کا انتخاب ہے اور وہ بھی چندلوگوں کا کیونکہ ساری جماعت کو اکٹھا نہیں کیا گیا حالانکہ ساری جماعت تو جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی اکٹھی نہیں ہوسکتی۔بہر حال جو ممکن ہے وہ یہی ہے کہ جو اس وقت آجائے وہ اس میں شریک ہو جائے۔اس کا انتظام کر دیا گیا تھا جس کی بنا پر بڑی سہولت سے انتخاب عمل میں آیا اور جس کے نتیجہ میں خلافت کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی گئی۔میرے تو وہم و گمان میں بھی سال 1972ء