تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 377
تاریخ احمدیت۔جلد 28 377 سال 1972ء نئی جماعت قائم ہوئی اس قصبہ کا نام Matebio ہے۔مورخہ ۱۵ مارچ ۱۹۷۲ ء کو اس گاؤں (Makarankay) سے پیدل دوسرے گاؤں کے لئے جس کا نام Rokantia ہے اور جو دس بارہ میل دور ہے روانہ ہوئے۔رستہ میں جہاں بھی کوئی گاؤں پڑا اس میں موجود لوگوں تک پیغام احمدیت و اسلام پہنچایا اور آرام بھی کیا۔اسی دوران میں ایک سات آٹھ گھروں پر مشتمل گاؤں میں پہنچے اور تبلیغ کی جہاں ایک دوست نے جو ایک دوسرے گاؤں Robart کا رہنے والا تھا ، فارم بیعت پر کر کے جماعت میں شامل ہوا۔عصر کے بعد Rokantia۔یہ ایک چھوٹا سا غریب زمینداروں کا گاؤں ہے۔اس گاؤں میں دوراتیں اور ایک دن قیام کر کے تبلیغی جلسہ اور نمازوں کے بعد تبلیغی پروگرام سرانجام دیا۔گاؤں میں تین غریب دوستوں کے متعلق علم ہوا کہ احمدی ہیں۔اس جگہ پر عیسائیوں کا پرائمری سکول ہے۔سکول کے دونوں عیسائی ٹیچروں کو بھی تبلیغ کی گئی۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس گاؤں میں ۴۹ آدمیوں نے جن میں سیکشن چیف بھی شامل ہے فارم بیعت پر کر کے احمدیت میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔۔۔۔بارہ دن کے اس مختصر سے دورے میں اور افراد کا حلقہ بگوش احمدیت ہو جانا احمدیت کی سچائی اور خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت کی ایک بین اور واضح دلیل ہے“۔79 افریقہ میں احمدی ڈاکٹروں کی طبی خدمات جناب الہی میں مقبول ہو رہی تھیں۔ہر جگہ شفایابی کے نشانات کا ظہور ہو رہا تھا جن کا ثبوت احمدی ڈاکٹروں کے ان خطوط سے ملتا ہے جو اُن دنوں مرکز احمدیت میں پہنچ رہے تھے مثلاً ڈاکٹر امتیاز احمد چوہدری صاحب انچارج احمد یہ نصرت جہاں کلینک نمبر ۲ بواجے بوسیرالیون نے لکھا۔پاکستان میں بھی میرے مریض اکثر صحت یاب ہو جاتے تھے لیکن یہاں آ کر تائید الہی کے بے شمار مواقع ظاہر ہوئے مثلاً ایک نہایت لاغر بیکس مریض جسے Strangulated Hernia لاحق ہو گیا تھا اور جس کا آپریشن بغیر توکل علی اللہ کے کرنا محال تھا خاکسار نے نہایت جانفشانی سے عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ آپریشن کیا۔اگلے ہی روز یہ مریض خود اٹھ کر بیٹھنے لگا۔تیسرے دن چلنا شروع کیا اور کل نویں دن اس کا زخم مندمل ہو جانے پر ٹانکے نکال دیئے گئے اب وہ نہایت مستعدی سے چل پھر سکتا ہے۔یہاں سے ملحقہ علاقہ کا ایک چیف جو کہ دل کے عارضہ سے قریب المرگ تھا اب تقریباً مکمل صحت یاب ہو چکا ہے۔وہ کہنے لگا کہ اگر میں (خاکسار) یہاں نہ ہوتا تو وہ ضرور مر جاتا۔میں نے