تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 376
تاریخ احمدیت۔جلد 28 376 سال 1972ء اس جلسہ سالانہ کے بعد مولوی محمد صدیق صاحب اور مولوی نظام الدین صاحب مہمان مبلغ کبالہ نے ۶ سے ۱۸ مارچ ۱۹۷۲ء میں مکینی سے لے کر رو کانتیا (Rokantia) تک ایک کامیاب تبلیغی دورہ کیا جس کے دوران ۹۱ نفوس حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔چنانچہ مولوی نظام الدین صاحب مہمان ایک رپورٹ میں رقمطراز ہیں کہ خاکسار نے کبالہ سے روانہ ہوکر مورخہ ۶ مارچ ۱۹۷۲ء سے مکینی سے اس تبلیغی دورہ کی ابتدا کی۔دو دن اس شہر میں اکیلے ہی انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ پیغام حق پہنچانے کے بعد ایک گاؤں مدینہ پہنچ کر مقامی مبلغ کو بھی شامل کر لیا۔اس گاؤں میں سات گھر احمدیت کے حلقہ میں پہلے سے آچکے تھے۔ایک روز قیام کے دوران اس گاؤں میں پیغام احمدیت پہنچایا گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۶ نئے گھروں کے مکینوں نے احمدیت کو قبول کیا۔الحمد لل۔۔۔جمعه مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۷۲ ء اس گاؤں سے پیدل قریباً پانچ میل دور ایک دوسرے بڑے گاؤں میں جہاں عیسائیوں کا ایک پرائمری سکول بھی ہے مدینہ کے تین چار دوستوں کو ہمراہ لے کر گیا جہاں امام الصلوۃ کے علاوہ بعض دوسرے ذی اثر لوگوں سے ملاقات کی اور اپنے آنے کی غرض بیان کی جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے جمعہ کی نماز کے بعد کا وقت مقرر کیا۔اس قصبہ میں ایک خاصی بڑی مسجد ہے جہاں قرب و جوار کے لوگ جمعہ ادا کرنے آتے ہیں۔اس قصبہ میں کوئی احمدی نہ تھا۔خاکسارا اپنے احمدی دوستوں کے ہمراہ نماز کے وقت سے پہلے مسجد میں پہنچا۔جمعہ کا وقت ہونے پر امام الصلوۃ اور دو تین شرفاء نے خاکسار کو نماز جمعہ پڑھانے کو کہا۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد میں قریباً دو گھنٹہ تک پیغام احمدیت پہنچایا گیا۔چند ایک سوالات کے جواب دیئے لیکن کوئی احمدیت میں شامل ہونے کے لئے آگے نہ بڑھا۔نماز عصر، مغرب اور عشاء بھی خاکسار نے پڑھائی اور ہر نماز کے بعد قریباً آدھ پون گھنٹہ سوالات کے جوابات دیئے گئے۔نماز عشاء کے بعد کورٹ باری میں رات گئے تک پھر پیغام احمدیت پہنچایا گیا اور پھر سوالات کا موقع دیا گیا۔خود امام نے اٹھ کر کہا میں صرف شکریہ ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں سوال کوئی نہیں ہے۔جو کچھ امام مہدی کی آمد وغیرہ کے بارے میں کہا گیا ہے درست ہے۔اگلے روز صبح کی نماز کے بعد چند منٹ درس دیا اور اس کے بعد کچھ لوگ جائے رہائش پر ساتھ آئے جہاں آ کر خدا تعالیٰ کے فضل سے دس افراد نے فارم بیعت پر کر کے احمدیت میں داخل ہونے کا اعلان کیا۔ان میں چار ایسے دوست ہیں جو مقرر ( غالباً اصل لفظ مخیر ہے ) اور صاحب اثر و رسوخ ہیں۔مدینہ کے دوستوں نے بتایا کہ ان دوستوں کا شامل ہونا بہت خوشی کی بات ہے۔اس جگہ ایک