تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 372 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 372

تاریخ احمدیت۔جلد 28 372 سال 1972ء کو عالمگیر مذہب منوانے کے دلائل کس قدر بودے ہیں۔سیرالیون جماعت احمد یہ سیرالیون کی مرکزی مسجد کی بنیاد سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۰ مئی ۱۹۷۰ء کو اپنے دست مبارک سے ”بو میں رکھی تھی۔وسط جولائی ۱۹۷۱ء میں اس کی تعمیر کا آغاز ہوا اور فروری ۱۹۷۲ء میں یہ اپنی تعمیر کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے چھتوں تک پہنچی تو مسٹر بائی ٹورے (Mr۔Bai Turay) نے دو ہفتہ کی شبانہ روز محنت و توجہ سے اس کی چھتوں پر لکڑی کے تختے لگوا کر ان کو لوہے سے باندھ دیا۔جس کے بعد سیرالیون کے مخلص احمدیوں نے اس پر کنٹل ڈالنے کے لئے ۵ - ۶ مارچ ۱۹۷۲ء کو پورے جوش و خروش سے وقار عمل کیا جس کی تفصیل الحاج سردار مولا نا مقبول احمد صاحب ذبیح مربی سلسلہ مقیم بو کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے:۔وا فٹ بلند اور ۵۲×۴۵ فٹ طول عرض والی اس عظیم مسجد پر ایک دن میں پانچ انچ موٹا کنکریٹ ڈالنے کے لئے مضبوط اور بلند ہمت لوگوں کی کثیر تعداد میں ضرورت تھی تا کہ اس آخری مرحلہ کو آسانی سے طے کیا جا سکے۔محترم امیر صاحب ( مکرم مولوی محمد صدیق صاحب شاہد امیر جماعتہائے احمد یہ سیرالیون) پہلے سے ہی یہ خیال ظاہر کر چکے تھے کہ علاوہ ” بو جماعت کے لوگوں کے اردگرد کی نزد یکی جماعتوں اور پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے طلباء کو بھی کہا جائے کہ وہ اس مبارک کام میں شمولیت اختیار کریں۔کام شروع ہونے سے دو دن قبل مکرم پا سعید و بنگو را صاحب نے طلباء سیکنڈری سکول کو مؤثر رنگ میں اس کام کی اہمیت بتائی جس کے نتیجہ میں یکصد طلباء نے برضاء ورغبت اور بصد شوق اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔نیز پرائمری سکول کی سینئر کلاسوں کے طلباء اور طالبات نے بھی نہایت خندہ پیشانی سے اس کام میں حصہ لیا۔اڑھائی صد سے زائد کے اجتماع کی موجودگی میں مکرم امیر صاحب نے صبح چھ بجے دعا کے ساتھ وقار عمل کا افتتاح کروایا۔اس کے بعد تمام احباب جماعت اور ہر دو سکولوں کے طلباء اور طالبات کام میں ہمہ تن مشغول ہو گئے۔سکول کی طالبات اور جماعت کی بعض مستورات کا کام پانی مہیا کرنا تھا انہوں نے ہمت اور شوق سے آخر تک پانی میں کمی واقع نہ ہونے دی۔جذ بہ وشوق اور ہمت وعزم سے پر یہ مثالی وقار عمل