تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 365
تاریخ احمدیت۔جلد 28 ذیل کیا جاتا ہے۔365 سال 1972ء پروگرام کے مطابق نمائندگان شوری نے نہایت ہی آزادانہ رنگ میں ایجنڈا پر غور و تدبر کرنے کے بعد اس پر بحث و جرح کی مختلف جماعتی امور کی ترقی پر غور و خوض کرنے کے بعد کثرتِ رائے سے جو فیصلہ جات ہوئے ان کا کسی قدر خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔اطفال اور خدام الاحمدیہ کی تعلیمی ترقی کے سلسلہ میں خاکسار کی زیر ہدایت ایک کمیٹی نے چار کورس اور ان کا نصاب مرتب کیا۔اس کورس کی تدریس کا انتظام مقامی جماعتوں میں ہی ہو گا مگر اس کا امتحان ہیڈ کوارٹر میں لیا جائے گا۔اس امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلباء تیسر اچھ ماہ کا کورس ہیڈ کوارٹرز میں ہی پڑھیں گے۔پھر یہاں سے کامیاب ہونے والے طلباء کو چوتھے اور آخری کورس کی پڑھائی کے لئے مختلف مبلغین کرام کے پاس بھیجا جائے گا جہاں انہیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ فروخت لٹریچر تبلیغی مشق اور جماعت کے ضروری امور سے واقفیت کرائی جائے گی۔نیز ان کی اخلاقی ، تربیتی اور دینی اصلاح بھی کی جائے گی۔پھر یہاں سے کامیاب ہونے والے طلباء ربوہ میں اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کی سفارش کے مستحق قرار دیئے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔سالا نہ مجلس مشاورت میں مختلف شعراء اور اہل علم حضرات نے بھی حصہ لے کر اس رونق کو دوبالا کیا۔مقررین حضرات نے زیادہ تر دعا اور اس کی اہمیت، اسلام کے محاسن، خلافت کی اہمیت و برکات ، خلافت ثالثہ کی تحریکات اور خلافت سے ہمیشہ وابستہ رہنے کی تلقین وغیرہ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔جنہیں حاضرین نے بہت ہی پسند کیا اور بہت ہی توجہ اور انہماک سے نقار پر کوسنا۔“ مشاورت ہی کے دنوں میں چوہدری عنایت اللہ صاحب نے مسلم کونسل آف تنزانیہ کے علماء سے روابط بڑھانے اور صحافیوں کو احمدیت سے متعارف کرانے کے لئے دو وفد بھیجے جو افریقن مبلغین اور نمائندگان شوری پر مشتمل تھے۔علماء سے ملاقات کیلئے جانے والے وفد کی قیادت معلم عبد و عمران صاحب نے کی اور صحافیوں سے جو وفد ملا اس کی نگرانی کے فرائض شیخ یوسف عثمان صاحب کمبا الایا (Kambalaya) نے انجام دیئے۔دونوں وفد اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔67 تنزانیہ کے مبلغین کرام کا اجتماع مجلس مشاورت کے اختتام کے اگلے روز مورخہ ۲۸ اگست کو مسجد دار السلام میں ہی تنزانیہ کے