تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 363 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 363

تاریخ احمدیت۔جلد 28 363 سال 1972ء کہ آپ مسٹر احمدی کی بات سمجھ نہیں رہے۔جب اس ناچیز کا سلسلہ کلام نہایت دوستی اور پیار کے ماحول میں جاری رہا تو مسٹر ملک نے تیسری بار کہنے کی جرات کی کہ مسٹر خالد آپ مسٹر احمدی کی بات سمجھ نہیں رہے۔اس پر میں نے اللہ تعالیٰ کی شان دیکھی اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتے دیکھا کہ انی مهین من اراد اهانتک چنا نچہ جرمن نو مسلم نے بڑے غصے سے جھلا کر کہا ?Mr۔Malik Do you think I am an idiot ( مسٹر ملک آپ مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں ) اس پر مسٹر ملک اور ان کے ساتھی مبہوت ہو گئے اور ہمارے مہمان نے سلسلہ کا لٹریچر طلب کیا جو ہمارے مفت پیش کرنے کے باوجود انہوں نے یہ کہتے ہوئے ہمیں مجبور کر کے قیمتالیا کہ آپ لوگ خدمت اسلام کا بڑا قیمتی کام کر رہے ہیں۔جب میں کتب کی قیمت ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہوں تو میں کیوں قیمت ادا نہ کروں؟ یہ کہہ کر وہ تشریف لے گئے۔اس طرح سے ہم نے اس روز خدا تعالیٰ کی زبر دست قوتوں کا مظاہرہ دیکھا کہ کس طرح اس مولا نے ہمارے مخالفوں کے ذریعہ سے ایک روح کو حق کی تائید کرنے کی توفیق بخشی اور جماعت احمدیہ کے اعجازی علم کلام کا بول بالا کیا۔65 مولا نا عبد الباسط صاحب شاہد چند ماہ تک مصروف عمل رہے اور پھر چوہدری عنایت اللہ صاحب احمدی کو چارج دے کر ۲۰ جولائی ۱۹۷۲ء کو مرکز احمدیت ربوہ میں تشریف لے آئے۔ان ایام میں تنزانیہ کے ہیں ریجنز میں سے ۱۸ میں جماعتیں قائم تھیں۔سونگوے (Songwe) کا دور افتادہ علاقہ ایسا تھا جہاں کوئی مبلغ اب تک نہیں جاسکا تھا۔چوہدری صاحب کے چارج سنبھالنے کے معاً بعد اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ کے ایک خوش نصیب نوجوان شعبانی سی کٹیلا کو سب سے پہلے قبول احمدیت کی سعادت عطا فرمائی اور پھر آپ کی کوشش سے گیارہ افراد پر مشتمل نئی جماعت قائم ہو گئی۔علاوہ ازیں چار ماہ میں تنزانیہ کے دوسرے مختلف علاقوں میں چھبیس نفوس نے اسلام میں شمولیت اختیار کی۔چوہدری عنایت اللہ صاحب اپنی ایک رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں:۔مور و گورو (Morogoro) مشن میں مکرم چوہدری رشید احمد صاحب سرور کے ساتھ کچھ عرصہ تک مکرم الحاج شیخ نصیر الدین صاحب ایم اے بھی بڑی مستعدی اور تندہی سے کام کرتے رہے۔۔۔۔۔تنزانیہ کے قومی تہوار ( سبع سبع ) کے موقعہ پر احمد یہ بک سٹال کے لئے عربی، انگریزی اور سواحیلی