تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 362
تاریخ احمدیت۔جلد 28 362 سال 1972ء جرمن نو مسلم مسٹر خالد نے اپنے میزبان منتظمین سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے ملک میں احمدیہ مسلم مشن بھی موجود ہے اس سوال پر وہ انہیں ٹالتے رہتے اور کہتے رہتے ہاں موجود تو ہے لیکن ان کی کوئی اہمیت نہیں۔لہذا ان کا ذکر نہ کریں۔معزز مہمان نے انہیں بار بار کہا کہ میں احمدی مبلغین کو ملنا چاہتا ہوں۔آخر مجبور ہو کر وہ انہیں ہمارے مشن کے ہیڈ کوارٹر دار السلام تنزانیہ لے آئے۔۱۹ جولائی ۱۹۷۲ء کو میں دفتر میں بیٹھا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے گیٹ سے مسٹر خالد نو ٹار ڈی اور ان کے ساتھ سرگرم مسلمان جماعت کے پنجابی رکن مسٹر ایم ایچ ملک ایم۔اے جو وہاں سکول میں ٹیچر ہیں اور افریقن دوست مکرم نصیب صاحب میری طرف آ رہے ہیں۔اس لاھی محض کی دلی تمنا تھی کہ اس جرمن نوجوان سے ملاقات ہو جائے چنانچہ خداوند کریم خود اپنے فضل سے انہیں میرے پاس لے آیا الحمد للہ علی ذالک۔دفتر میں داخل ہوتے ہی جرمن نو مسلم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور کے خلفاء کے فوٹو دیوار پر آویزاں دیکھے تو دریافت کیا یہ کون صاحب ہیں۔جس پر انہیں آرام سے بٹھا کر بتایا گیا کہ یہ فوٹو کن کن بزرگوں کے ہیں۔ان کی مشروبات سے تواضع کی گئی اور گفتگو شروع ہو گئی۔موصوف نے دریافت کیا کہ احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ میں نے انہیں محبت سے بتایا کہ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منتظر ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام ہی وہ مسیح موعود ہیں کہ جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے مسیح مہدی اور نبی بنے۔اس پر مسئلہ ختم نبوت کے بارہ میں موصوف نے نہایت دیانتداری اور شرافت سے سوال وجواب کا سلسلہ شروع کیا۔میں دیکھتا اور دعا کرتا رہا اور وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔میں نے نوٹ کیا کہ ہماری پیار اور محبت کی گفتگو سے ان کے ساتھی مسٹر ملک بہت زیادہ پریشان تھے۔جب میں نے قرآن پاک کی بعض آیات سے امکان اجرائے نبوت امتی اور غیر تشریعی نبوت پر دلائل دیئے اور احادیث نبویہ سے ثابت کیا کہ آنے والا مسیح تو بتصدیق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بہر صورت نبی ہوگا تو بے اختیار اس شریف دلیر باوقار جرمن کے منہ سے نکلا کہ ایسے نبی کے ماننے سے تو ختم نبوت کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔یعنی ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔اس پر پریشان ہو کر مسٹر ملک نے کہا مسٹر خالد آپ مسٹر احمدی ( یعنی اس عاجز ) کی بات نہیں سمجھ رہے۔اس ریمارک پر جرمن نوجوان کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار نمایاں ہو گئے۔چند منٹ بعد جب مسٹر ملک نے دیکھا کہ احمدیت کا اثر جرمن نو مسلم پر پڑ رہا ہے تو پھر بے اختیار ان کے منہ سے وہی فقرہ نکل گیا